30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البتۃ فغایتہ ان کان مستورا لاسیماوھو من القرون المشہود لھا بالخیرالتابعین والمستورمقبول عندنا والجمہور کمابیّنّاہ فی"الھاد الکاف فی حکم الضعاف" فالحدیث لاینزل ان شاء اﷲ عن درجۃ الحسن۔ حدیث ابی مسعود اعلہ بیحیٰی بن یمان قال لایحتاج بحدیثہ لسوء حفظہ وکثرۃ خطائہ [1]،اقول: یحیٰی من رجال مسلم والاربعۃ،قال الحافظ،صدوق عابد یخطیئ کثیرا وقد تغیر[2]اھ وقد تابعہ الیسع بن اسمٰعیل عن زید بن الحباب عن سفیٰن قال ابن الجوزی والیسع ضعیف[3] قلت قال فی المیزان ضعفہ الدار قطنی[4] اھ وھو کما تری جرح مجرد حدیث ابن عباس من طریق القاسم بن بھرام،قال ابن الجوزی تفرد بہ |
اس کی یہ ہے کہ وہ مستور ہے خصوصًا وہ ان زمانوں میں ہے جن کے لئے غیر کی شہادت دی گئی یعنی تابعین سے، اور مستور ہمارے نزدیك اورجمہور کے نزدیك مقبول ہے، جیساکہ ہم نے اس کو"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"میں بیان کیا۔چنانچہ ان شاء اﷲ العزیز یہ حدیث درجہ حسن سے نہیں گرے گی۔امام نسائی نے یحیٰی بن یمان کے سبب سے حدیث ابی مسعود کی تعلیل کرتے ہوئے کہاکہ حافظہ کی کمزوری اور کثرت خطاء کی وجہ سے یحیٰی کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی،اقول:(میں کہتاہوں)یحیٰی بن یمان امام مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہے،حافظ نے کہاکہ وہ صدوق عابد ہے خطا زیادہ کرتا ہے اوروہ متغیرہوا الخ اس کی متابعت کی یسع بن اسمٰعیل نے زیدبن حباب کے حوالے سے جس نے سفیان سے نقل کیا،ابن جوزی نے کہا کہ یسع ضعیف ہے۔قلت(میں کہتاہوں)میزان میں کہاکہ دارقطنی نے اس کو ضعیف قراردیاالخ اور وہ جیساکہ تودیکھتاہے کہ جرح مجردہے،حدیث ابن عباس بطریق قاسم بن بہرام ہے،ابن جوزی نے کہاکہ وہ اس میں متفرد ہے،ابن حبان نے |
[1] سنن النسائی کتاب الاشربۃ ذکرالاخبار التی اعتل بہاالخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۳۳
[2] تقریب التہذیب حرف الباء ترجمہ ۷۷۰۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۰۹
[3] العلل المتناہیۃ کتاب الاشربۃ تحت حدیث ۱۱۲۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۲ /۱۸۷
[4] میزان الاعتدال ترجمہ الیسع بن اسمٰعیل ۹۷۸۴ دارالمعرفۃ بیرت ۴ /۴۴۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع