30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قوم بالمدینۃ قالوا یارسول اﷲ ان عندنا شرابا لنا افلانسقیك منہ قال بلٰی فاتی بعقب اوقدح غلیظ فیہ نبیذ فلما اخذہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقربہ الٰی فیہ قطب قال فدعا الذی جاء بہ فقال خذہ فاھرقہ فلما ان ذھب بہ قالوا یارسول اﷲ ھذا شرابنا ان کان حراما لم نشربہ فدعا بہ فاخذہ ثم دعا بماء فصبّہ علیہ ثم شرب وسقی وقال اذاکان ھٰکذا فاصنعوا بہ ھکذا[1]۔ |
شراب ہے کیا اس میں سے ہم آپ کونہ پلائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں۔آپ کی خدمت میں ایك پیالہ پیش کیاگیا جس میں تیزنبیذ تھی،جب آپ نے اس کوپکڑا اورمنہ کے قریب کیاتوتیوری چڑھائی اوراس شخص کوبلایا جولایا تھا، اورفرمایا اس کولے جاؤ اور انڈیل دو۔جب وہ شخص اس نبیذ کولے کرچلاگیا لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! یہ ہماری شراب اگرحرام ہے توہم اس کونہ پئیں، نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کودوبارہ طلب فرمایا اسے پکڑا پھرپانی منگواکر اس میں ڈالا پھر پیا اور پلایا اور فرمایا جب نبیذ ایسی ہو تو اس کے ساتھ اس طرح کیا کرو۔ (ت) |
اُسی میں ہے:
|
عن وکیع عن شریك عن فراس عن الشعبی ان رجلا شرب من اداوۃ علی بصفین فسکر فضربہ الحد۔[2] |
وکیع سے شریك سے فراس سے شعبی سے روایت ہے کہ ایك شخص نے صفین میں حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے برتن سے شراب پی تو اسے نشہ ہوگیا آپ نے اس پرحد لگائی۔ (ت) |
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
|
حدثنا عبدالرحیم بن سلیمٰن عن مجالد عن الشعبی عن علیّ نحوہ وقال فضربہ ثمانین[3]۔ |
ہمیں عبدالرحیم بن سلیمان نے مجالد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے علی سے ایسے ہی حدیث بیان کی اورکہا حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے اسّی کوڑے لگائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع