30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بن اسلم عن سمّی عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا دخل احدکم علی اخیہ المسلم فاطعمہ طعاما فیاکل من طعامہ ولایسأل عنہ فان اسقاہ شرابا فلیشرب منہ ولایسأل عنہ فان خشی منہ فلیکسرہ بشیئ،ففی ھذا الحدیث اباحۃ شرب النبیذ فان قال قائل انما اباحہ بعد کسرہ بالماء و ذھاب شدتہ قیل لہ ھذا کلام فاسد لانہ لوکان فی حال شدتہ حراما لکان لایحل وان ذھبت شدتہ بصب الماء علیہ الاتری ان خمرالوصب فیھا ماء حتی غلب الماء علیھا ان ذالك حرام فلما کان قدابیح فی ھذا الحدیث الشراب الشدید اذا کسر بالماء ثبت بذٰلك انہ قبل ان یکسر بالماء غیر حرام فثبت بما رویناہ فی ھذاالباب اباحۃ مالایکسر من النبیذ الشدید وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالٰی۔[1] |
کی انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایك اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے تو وہ اس کوکھاناکھلائے اس کو چاہئے کہ وہ کھاناکھالے مگراس سے کھانے کاسوال نہ کرے اوراگروہ اس مشروب سے نشہ کاڈرمحسوس کرے توپانی وغیرہ سے اس کی تیزی کوتوڑ دے،اس حدیث میں نبیذ کی اباحت کاثبوت ہے،اگر کوئی شخص کہے کہ پانی کے ساتھ اس کی سختی ختم کرنے کے بعد اسے مباح قراردیاگیاہے جبکہ اس کی شدت ختم ہوجاتی ہے تو اس کوکہاجائے گا کہ تیرایہ کلام فاسد ہے اس لئے کہ اگروہ شدت کی حالت میں حرام ہوتووہ حلال نہیں ہوسکتی اگرچہ پانی انڈیلنے کے ساتھ اس کی شدت ختم ہوجائے،کیاتم نہیں دیکھتے کہ اگرخمر میں اس قدرپانی ملایاجائے کہ وہ اس غالب آجائے تو وہ حرام ہی رہے گا،اس حدیث میں جب تیز شراب(نبیذ)کو مباح قراردیاگیاہے جب پانی کے ساتھ اس کی شدت ختم کردی جائے،اس سے ثابت ہوگیا کہ پانی انڈیل کرتیزی ختم کرنے سے پہلے وہ حرام نہیں تھی لہٰذا جوکچھ ہم نے اس باب میں روایت کیااس سے تیزنبیذ کامباح ہونا ثابت ہوگیا جبکہ وہ نشہ نہ دے،اوریہی قول ہے امام ابوحنیفہ،امام ابویوسف اور امام محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع