30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اشربا ولاتسکرا فدل ذالك ان ماذکرہ ابوموسٰی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قولہ کل مسکر حرام انما ھو علی المقدرالذی یسکر لاعلی العین التی کثیرھا یسکر وقد روینا حدیث ابی سلمۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا فی جواب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للذی سالہ عن البتع بقولہ کل شراب اسکر فھو حرام فان جعلنا ذٰلك علٰی قلیل الشراب الذی لیسکر کثیرہ ضاد جواب النّبی صلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمعاذ و ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنھما وان جعلناہ علٰی تحریم السکر خاصۃ وافق حدیث ابی موسٰی واولی الاشیاء بناحمل الآثار علی الوجہ الذی لاتتضاد،حدثنا ابن مرزوق (بسندہ)عن شماس قال قال عبداﷲ(یعنی ابن مسعود)رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان القوم یجلسون علی الشراب وھو یحل لھم فمایزالون حتی یحرم علیھم۔ حدثنا محمد بن خزیمۃ(بسندہ) |
"پیو اورنشہ میں مت آؤ"۔یہ حدیث دلیل ہے کہ ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے جوحدیث ذکرفرمائی کہ"ہرنشہ آورحرام ہے"وہ نشہ آور مقدارپرمحمول ہے نہ کہ اس شیئ کے عین پرجس کا کثیر نشہ آورہے اورہم حدیث ابی سلمہ بحوالہ امّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا روایت کرچکے ہیں جونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی وآلہٖ وسلم کے اس جواب کے بارے میں ہے جوبتع سے متعلق سوال کرنے والے شخص کو آپ نے دیا وہ یہ کہ"ہرشراب جونشہ دے وہ حرام ہے"اگراس حدیث کو ہم اس شراب کے قلیل پرمحمول کریں جس کاکثیر نشہ دیتاہے تویہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اس جواب کے خلاف ہے جو آپ نے حضرت معاذاورابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہما کودیا۔اوراگر اس کوہم خاص نشہ کی حرمت پرمحمول کریں تویہ حدیث ابوموسٰی کے موافق ہوجاتاہے اور ہمارے لئے اولٰی یہ ہے کہ ہم تمام آثار کوایسے معنی پر محمول کریں کہ ان میں باہمی تضاد نہ رہے۔ہمیں ابن مرزوق نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ قوم شراب نوشی کے لئے بیٹھتی جب وہ ان کے لئے حلال تھا وہ ایساکرتے رہے یہاں تك کہ وہ ان کے لئے حرام ہوگیا۔ہمیں محمدبن خزیمہ نے اپنی سند کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع