30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
(یبلغہ الٰی)عبدالرحمٰن بن عثمٰن قال صحبت عمر بن الخطاب الٰی مکۃ فاھدٰی لہ رکب من ثقیف سطیحتین من نبیذفشرب عمراحدٰھما ولم یشرب الاخری حتی اشتد مافیہ فذھب عمر فشرب منہ فوجدہ قداشتد فقال اکسروہ بالماء [1]،قلت ورواہ عبدالرزاق۔قال الطحاوی فلما ثبت بما ذکرنا عن عمر اباحۃ قلیل النبیذ الشدید وقد سمع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول کل مسکر حرام کان مافعلہ دلیلًا ان ماحرم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من النبیذ الشدید ھو السکر منہ لاغیر فاما ان یکون سمع ذٰلك من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قولا اوراٰہ رأیا فرأیہ عندنا حجّۃ ولاسیما اذا کان فعلہ المذکور بحضرۃ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمن بن عثمان نے کہاکہ میں نے مکہ مکرمہ کی طرف سفرکے دوران حضرت عمرابن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی صحبت اختیار کی قبیلہ بنی ثقیف کے ایك وفد نے آپ کی خدمت میں نبیذ کے دومشکیزے بطورہدیہ پیش کئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان میں سے ایك پی لیا اوردوسرے کونہیں پیا یہاں تك کہ اس میں شدت آگئی پھرجب آپ نے اس کوپیا تو اس کوشدید پایا اورفرمایا پانی سے اس کی تیزی کوتوڑدو۔میں کہتاہوں اس کوعبدالرزاق نے روایت کیا۔امام طحاوی نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ان واقعات مذکورہ سے جب نبیذ شدید کی قلیل مقدارکامباح ہونا ثابت ہوگیا حالانکہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے کہ ہرنشہ آورحرام ہے تو آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کافعل اس بات کی دلیل ہوگاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نبیذ شدید سے جو حرام فرمایا وہ نشہ آورمقدار ہے نہ کہ اس کاغیر چاہے توحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہو یا اُن کی اپنی یہ رائے ہوکیونکہ ہمارے نزدیك ان کی رائے حجت ہے خصوصًا جب کہ آپ کایہ فعل مذکورصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی موجودگی میں واقع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع