30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی مصنفہ،حدثنا علی بن مسھر عن الشیبانی عن حسان بن مخارق قال بلغنی ان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سایر رجلا فی سفروکان صائما فلما افطراھوی الی قربۃ لعمر معلقۃ فیھا نبیذ فشرب منھا فسکر فضربہ عمرالحد فقال لہ انما شربت من قربتك فقال لہ عمر انما جلدناك لسکرك [1]قلت وھذا امثل طرقہ وما یخشی فی البلاغ من الانقطاع فلایضر عندنا وعند الجمھور القابلین لمراسیل۔ وروی عبدالرزاق اخبرنا ابن جریح عن اسمٰعیل ان رجلاعب فی شراب نبیذ لعمربن الخطاب بطریق المدینۃ فسکر فترکہ عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)حتی افاق فحدہ[2]۔فقال الطحاوی حدثنا |
ابوبکربن ابی شیبہ نے اپنے مصنّف میں روایت فرمایاکہ ہمیں علی بن مسہر نے اپنی سندکے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایك شخص کے ساتھ سفر میں تھے اور وہ روزہ دارتھاجب اس نے افطارکیاتووہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ایك مشکیزہ کی طرف مائل ہواجو لٹکا ہواتھا اور اس میں نبیذ تھا اس نے پیا جس سے اسے نشہ ہوگیا،توحضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس پرحد لگائی تو اس نے کہا میں نے تو آپ کے مشکیزہ سے پیاہے،حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہم نے تجھے تیرے نشے کی وجہ سے کوڑے لگائے،میں کہتاہوں یہ اس حدیث کے طرق میں سے عمدہ ترین ہے اوراس میں جوانقطاع کاخدشہ ہے وہ ہمیں نقصان نہیں دیتااور نہ جمہور کوجومرسل حدیثوں کو قبول کرتے ہیں۔عبدالرزاق نے روایت کیاکہ ہمیں ابن جریج نے اسمٰعیل سے خبردی کہ ایك شخص نے مدینہ کے راستے میں حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نبیذکوایك ہی سانس میں پیا تو اسے نشہ ہوگیا حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اُسے کچھ دیرچھوڑے رکھا یہاں تك کہ اسے افاقہ ہوا پھر اسے حدماری۔امام طحاوی نے فرمایاکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع