30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماسوی ذٰلك اذا حدث فیہ مثل ھذہ الصفۃ فالذی نشھد علی اﷲ تعالٰی بتحریمہ ایاہ ھو الخمر الذی اٰمنا بتاویلھا من حیث قداٰمنا بتاویلھا والذی لانشھد علی اﷲ انہ حرم ھوالشراب الذی لیس بخمر فماکان من خمر فقلیلہ وکثیرہ حرام وماکان مما سوی ذٰلك من الاشربۃ فالسکر منہ حرام وما سوی ذٰلك منہ مباح ھذا ھو النظر عندنا وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالٰی غیر نقیع الزبیب والتمرخاصۃ فانھم کرھوا ولیس ذٰلك عندنا فی النظر کما قالوا،ولٰکن اصحابنا خالفوا ذٰلك للتاویل الذی تاولواعلیہ حدیث ابی ھریرۃ وانس الذین ذکرنا وشیئ رووہ عن سعید بن جبیر انہ قال فی ذٰلك ھی الخمر فاجتنبھا۔[1] |
کہ اس کو اﷲ نے حرام کیاہے وہ خمرکے علاوہ دوسری شرابیں ہیں، چنانچہ جوخمرہے اس کاقلیل اورکثیر سب حرام ہے اورجو اس کے ماسوا دیگرشرابیں ہیں ان میں سے نشہ آورمقدار حرام ہے باقی مباح ہے ہمارے نزدیك یہی قیاس ہے اوریہی قول ہے امام ابوحنیفہ،امام ابویوسف اور امام محمدکا،رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم،جبکہ کشمش اورکھجور کے رس کوانہوں نے مکروہ قرار دیااورہمارے نزدیك قیاس میں ایسانہیں جیساکہ انہوں نے کہا(اس لئے کہ جوبات ہم متفق علیہ دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ رس چاہے کچاہو یاپکا دونوں صورتوں میں برابر ہے اور پکانے سے وہ حلال نہیں ہوسکتا جبکہ وہ پکانے سے پہلے حلال نہیں تھا البتہ ایساپکانا جواس کو رس کی حد سے نکال دے اوروہ شہد کی تعریف میں داخل ہوجائے تواب اس کاحکم وہی ہوگا جو شہدکا ہے۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ کشمش اورکھجور کاپکاہوا رس بالاتفاق مباح ہے۔اب قیاس کاتقاضایہ ہے کہ ان دونوں میں بھی حکم ایساہی ہولہٰذاکھجور اورانگور کانبیذ اور پکاہوا رس برابرہوگئے جس طرح انگور کاکچارس اوراس کاپکایا ہوا برابرہے یہی قیاس ہے)لیکن ہمارے اصحاب نے اس میں اختلاف کیا اس تاویل کی بنیاد پرجو انہوں نے حضرت ابوہریرہ اورحضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیثوں میں بیان کی جن کوہم ذکر کر چکے اوراس حدیث کی بنیادپربھی جوانہوں نے حضرت سعیدبن جُبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اس کے بارے میں فرمایاکہ یہ خمرہے لہٰذا اس سے بچو۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
حدثنا فھد(فذکر بسندہ)عن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ |
فہد نے اپنی سندکے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سفرمیں تھے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع