30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سیرین ام ولد عبداﷲ فشرب و وسقانی[1]۔اخبرنا ابوحنیفۃ قال حدثنا ابواسحٰق السبیعی عن عمرو بن میمون الاودی عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال ان للمسلمین جزورا لطعامھم وان العتق منھا لآل عمر،وانہ لایقطع ھٰذہ الابل فی بطوننا الا النبیذ الشدید۔اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ اتی باعرابی قدسکر،فطلب لہ عذرا فلما اعیاہ(الاذھاب عقل)قال احبسوہ فاذاصح فاجلدوہ ودعا بفضلۃ فضلت فی ادواتہ،فذاقھا فاذا نبیذ شدید ممتنع، فدعا بماء فکسرہ(وکان عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یحب الشراب الشدید)فشرب وسقی جلسائہ ثم قال ھذا اکسروہ بالماء اذا غلبکم شیطانہ[2]۔اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن |
کھاتا،پھرانہوں نے نبیذطلب فرمائی جوان کی ام ولد سیرین نے ان کے لئے تیار کی تھی جس کو ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خود بھی پیا اورمجھے بھی پلائی۔ہمیں امام ابوحنیفہ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی کہ حضرت عمر ابن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا عمدہ اونٹ مسلمانوں کے کھانے کے لئے ہیں اوران میں سے پرانے حضرت عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کے لئے ہیں،اوربیشك ان اونٹوں کوپیٹوں میں سوائے گاڑھی نبیذ کے کوئی شَے ہضم نہیں کرتی۔ہمیں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس ایك اعرابی لایاگیا جو نشے میں تھا آپ نے اس سے عذرپوچھا توسوائے خرابی عقل کے اس کو عاجز پایا،آپ نے فرمایا اس کو روك رکھو جب ہوش میں آئے تو اس کو کوڑے لگاؤ،اورحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس کے برتن میں بچی ہوئی شراب منگوائی اوراسے چکھا تو وہ گارھا نبیذتھا جوکہ ممتنع ہے۔پھرآپ نے پانی منگوایا اور اس نبیذ کی تیزی کو توڑا(حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ گاڑھی شراب کوپسند فرماتے تھے)پھراسے پیا اورشرکاء مجلس کو پلایا۔پھرفرمایا کہ جب اس شراب کاشیطان تم پرغالب آجائے تو پانی سے اس کی تیزی توڑدیاکرو۔ہمیں امام ابوحنیفہ نے حماد سے انہوں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع