30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذٰلك الحدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما فیبعد فی العقول ان یروی ابن عباس حدیثا ثم یقول بخلافہ،وقد اطنب الکرخی رحمہ اﷲ فی روایۃ الآثار عن الصحابۃ والتابعین بالاسانید الصحاح فی مختصرہ فی تحلیل النبیذ الشدید ترکنا ذکرھا مخافۃ التطویل و الحاصل ان الاکابر من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واھل بدرکعمروعلی وعبداﷲ بن مسعود وابی مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنھم کانوایحللون شرب النبیذ وکذاالشعبی و ابراھیم النخعی وقال فی شرح لاقطع،وقدسلك بعض الجہال فی ھذہ المسئلۃ طریقۃ قصدبھا الشنیع والفسوق عندالعوام،لما ضاق علیہ طریق الحجۃ فقال روی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال لیشربن ناس من امتی الخمر ویسمونھا باسماء قال ھذا القائل وھم اصحاب ابی حنیفۃ وھذا کلام جاھل بالاحکام والنقل والآثار ومتعصب قلیل الورع لایبالی ماقال ثم یقال لھذا القائل مارمیت بھٰذا القول اصحاب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وانما السلف الصالح اردت |
کیونکہ حدیث مذکورکے راویوں میں سے ایك سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہمابھی ہیں اوریہ بات عقل سے بعید ہے کہ ابن عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہما ایك حدیث روایت فرمائیں،پھرخود اس کے خلاف فرمائیں،گاڑھی نبیذکے حلال ہونے سے متعلق صحابہ وتابعین کے آثارکوصحیح سندکے ساتھ روایت کرنے میں امام کرخی علیہ الرحمۃ نے اپنی مختصرمیں بہت طوالت فرمائی ہم نے طوالت کے ڈرسے ان کے ذکر کو ترك کردیا۔خلاصہ یہ کہ اکابر اصحاب رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور اہل بدر جیسے حضرت عمر،علی،عبداﷲ ابن مسعود اورابومسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہم نبیذ کے پینے کو حلال قراردیتے تھے اوریہی موقف ہے شعبی اورابراہیم نخعی کا۔ شرح اقطع میں ہے کہ ایك جاہل نے اس مسئلہ میں ایساراستہ اختیارکیاجس سے اس کا مقصدلوگوں کے ہاں برائی اورفسق کو رائج کرناہے،جب اس کے لئے دلیل کاراستہ تنگ ہوگیاتو اس نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کافرمان ہے میری امت میں سے کچھ لوگ ضرور شراب پئیں گے اور اس کے مختلف نام رکھ لیں گے،وہ لوگ امام ابوحنیفہ کے اصحاب ہیں۔یہ اس کا کلام ہے جواحکام،نقل اورآثارسے جاہل اور متعصب اورتقوٰی میں بہت گھٹیا ہے،اس کی پروانہیں کرتا کہ وہ کیاکہہ رہاہے۔پھراس قائل کو کہاجائے کہ جوکچھ تو نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی کے اصحاب کی طرف منسوب کیاہے اس سے تیرا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع