30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالٰی الآثار التی وردت فی اباحۃ النبیذ الشدید قولا وفعلا ذکرھا محمدرحمہ اﷲ تعالٰی فی الکتاب وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی فی الکتاب وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال من شرائط السنۃ والجماعۃ ان لا یحرم النبیذ الجرلان فی تحریمہ تفسیق کبار الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم،وعنہ انہ قال لا احرم النبیذ الشدید دیانۃ ولااشربہ مروئۃ، اجمع کبار الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم علی اباحۃ النبیذ واحتاطوا فی شربہ لاجل الاختلاف وکذا السلف عدھم کانوا یشربون نبیذ الجر بحکم الضرورۃ لاستمراء الطعام[1]۔ |
امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالٰی کی دلیل وہ آثار ہیں جوقولًا اورفعلًا گاڑھی نبیذ کی اباحت پروارد ہیں۔اس کو امام محمدعلیہ الرحمہ نے کتاب میں ذکرفرمایا۔امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذکوحرام نہ قراردینا سنت وجماعت کی شرائط میں سے ہے کیونکہ اس کو حرام قرار دینے میں صحابہ کبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی طرف فسق کو منسوب کرنا لازم آتاہے،اورانہی سے منقول ہے کہ میں گاڑھی نبیذ کو از راہ دیانت حرام قرارنہیں دیتا اوربطورمروّت اس کونہیں پیتا۔نبیذ کی اباحت پرصحابہ کبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا اجماع ہے مگروہ بسبب اختلاف کے اس کو پینے میں احتیاط کرتے تھے۔اسی طرح ان کے بعد اسلاف کسی ضرورت کے تحت گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ پیتے تھے مثلًا کھاناہضم کرنے کے لئے۔(ت) |
خلاصہ میں ہے:
|
عن محمد بن مقاتل الرازی انہ قال لواعطیت الدنیا بحذافیرھا ماشربت المسکر یعنی نبیذ التمر والزبیب ولو اعطیت الدنیا بحذافیرھا ما افتیت بانہ حرام[2]۔ |
محمدبن مقاتل رازی نے کہااگر مجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی مسکریعنی کھجوراورزبیب کانبیذنہیں پیوں گا،اوراگرمجھے ساری دنیادے دی جائے توبھی اس کے حرام ہونے کافتوٰی نہیں دوں گا۔(ت) |
غایۃ البیان علامہ اتقانی میں ہے:
|
واحتج ابوحنیفۃ وابویوسف فی قولہ |
امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع