30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ادنی طبخۃ یحل فی قول الشیخین واختلف فی قول محمد قیل یحل شربہ مادون السکر وقیل لایحل اصلا وعنہ ایضا انہ قال اکرہ ذٰلك وان لم یطبخ فعن الشیخین روایتیان فی روایۃ لایحل شربہ کنقیع الزبیب غیرالمطبوخ وفی روایۃ یحل شربہ و ذکرفی الفتاوی المنصوریۃ ان الفتوی علی انہ لا یشترط الطبخ لحلہ[1]۔ |
اوران کوتھوڑا ساپکالیاجائے توشیخین کے نزدیك حلال ہیں اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے قول میں اختلاف ہے،بعض نے کہاجو نشہ والی مقدارسے کم ہوں حلال ہیں اور بعض نے کہاکہ مطلقًا حلال ہیں اورانہیں اسے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں اس کو مکروہ جانتاہوں اوران کوپکایانہ جائے توشیخین سے دوروایتیں ہیں ایك روایت میں اس کاپینا حلال نہیں ہے جیساکہ کہ زبیب کاوہ رس جس کوپکایانہ گیاہو،اور ایك روایت میں ہے کہ اس کاپیناحلال ہے۔فتاوٰی منصوریہ میں مذکورہے فتوٰی اس پرہے کہ اس کے حلال ہونے کے لئے پکاناشرط نہیں۔(ت) |
فتح اﷲ المعین میں ہے:
|
من ادلۃ حلہ ماقال فی الاختیار،عن ابن ابی لیلٰی قال اشھد علی البدریین من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھم یشربون النبیذ فی الجرار الخضر وقد نقل ذٰلك عن اکثر الصحابۃ ومشاھیر ھم قولاوفعلا حتی قال ابوحنیفۃ انہ مما یجب اعتقاد حلہ لئلا یؤدی الٰی تفسیق الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم[2]۔ |
اس کے حلال ہونے کے دلائل میں سے ایك دلیل وہ ہے جو اختیارمیں ابن ابی لیلٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بدری صحابہ کرام کے بارے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ سبزصراحیوں میں نبیذ پیتے تھے اوریہ بات اکثرمشاہیرصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے قولًا اورفعلًا منقول ہے یہاں تك کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنا واجب ہے تاکہ صحابہ کرام کوفسق کی طرف منسوب کرنا لازم نہ آئے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع