30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلیہ میں ہے:
|
قال شیخنا وبہ صرح فی التجنیس فقال یحرم شربہ [1]۔ |
ہمارے شیخ ن فرمایا اوراسی کے ساتھ تجنیس میں بھی تصریح کی گئی ہے،فرمایا اس کوپیناحرام ہے(ت) |
اورگاد میں نشہ نہ ہونابھی نفع نہ دے گا جبکہ عدم سکراس وجہ سے ہوکہ اس میں ثقل زیادہ ہے،اجزائے رقیقہ کہ مورث تفریج وتبخیر سکری ہوتے ہیں اتنے نہیں کہ ان کااثرظاہرہو،اوپرمعلوم ہولیاکہ ہرمسکرپانی کاقطرہ قطرہ ذرّہ ذرّہ شراب کی طرح حرام اورپیشاب کی طرح نجس ہے اور گادان اجزاسے خالی نہیں ہوسکتی اوربالفرض خالی ہو تو ناپاك توضرورہے کہ آخراُسی پیشاب کاتلچھٹ ہے۔ہدایہ میں ہے:
|
یکرہ شراب دردی الخمر والامتشاط بہ لان فیہ اجزاء الخمر والانتفاع بالمحرم حرام،ولایحد شاربہ ان لم یسکر لان الغالب علیہ الثفل فصارکما اذا غلب علیہ الماء بالامتزاج[2] اھ۔ |
شرا ب کا تلچھٹ پینا اور اس کے ساتھ بالوں کوکنگھا کرنامکروہ ہے کیونکہ اس میں شراب کے اجزاء ہیں اورحرام سے انتفاع بھی حرام ہے،تلچھٹ پینے والے پر حد جاری نہیں کی جائے گی اگروہ نشہ نہ دے،کیونکہ اس میں غالب میل کچیل ہوتی ہے تو وہ ایساہی ہوگیاجس میں پانی کی ملاوٹ غالب ہوجائے اھ (ت) |
مگرامام الاطباء داؤد انطاکی نے تذکرہ میں تصریح کی کہ سیندھی یعنی وہ پانی کہ تاڑی کی طرح ناریل کے درخت سے لیاجاتاہے صرف یکشبانہ روزمسکررہتا ہے اس کے بعد سخت تندوتیز سرکہ ہوجاتا ہے۔
|
حیث ذکر فی ذکر النارجیل قد یفسد طلعہ اوجریدہ ویلقم کوزافیسیل منہ لبن ویسمی السیندی یبقٰی یوما علی الحلاوۃ والدسومۃ ولہ افعال اشد من الخمر وھو خیر منھا ثم یکون خلابالغا قاطعا[3]۔ |
کیونکہ انہوں نے نارجیل کے ذکرمیں فرمایاکہ اس کاگابھا اورٹہنی کبھی فاسد ہوجاتی ہے اورکوزاکا دھانا بندہوجاتاہے اس سے دودھ بہنے لگتاہے جس کو سیندھی کہتے ہیں وہ ایك دن تك اپنی حلاوت اورچکنائی پربرقرار رہتاہے اوراس کے افعال شراب سے سخت ترہیں اور وہ اس سے بہترہے پھروہ تندوتیزسرکہ بن جاتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع