30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاصہ میں نوازل فقیہ ابواللیث سے ہے:
|
عند محمد حرام شربہ قال الفقیہ وبہ ناخذ۔[1] |
امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیك اس کاپینا حرام ہے،فقیہ نے کہاہم اسی کولیتے ہیں۔(ت) |
فتاوٰی ہندیہ میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
|
ذکرمحمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی الکتٰب کل ماھو حرام شربہ اذا اصاب الثوب منہ اکثر من قدرالدرھم یمنع جوازالصّلٰوۃ قالوا وھکذا روی ھشام عن ابی یوسف حکی عن الفضلی انہ قال علٰی قول ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالٰی یجب ان یکون نجسا نجاسۃ خفیفۃ والفتوی علی انہ نجس نجاسۃ غلیطۃ[2] اھ اعلم ان المحقق صاحب البحر کان بحث فی البحر ترجیح التغلیظ بناء علی اصل مھدہ سابقا و نازعہ اخوہ المدقق فی النھر محتجا بما فی المنیۃ صلی وفی ثوبہ دون الکثیر الفاحش من السکر اوالمنصف تجزیہ فی الاصح [3]اھ وذکرفی الدرخلاف الاخوین و لم یزد وقال العلامۃ |
امام محمدعلیہ الرحمہ نے کتاب میں فرمایا کہ جس شیئ کاپینا حرام ہے اگروہ مقدار درھم سے زائدکپڑے کولگ جائے تو اس کپڑے میں نماز ممنوع ہوگی۔علماء نے کہاکہ ہشام نے امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے یونہی روایت کیاہے۔فضلی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا امام ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما کے قول پرضروری ہے کہ وہ کپڑا نجاست خفیفہ کے ساتھ نجس ہو،اورفتوٰی اس پر ہے کہ وہ نجاست غلیظ کے ساتھ نجس ہے اھ،جان لوکہ امام محقق صاحب البحرنے بحرمیں اس پربحث کرتے ہوئے نجاست غلیظہ کو ترجیح دی اور اس کی بنیادایسے قاعدہ پر رکھی جس کو انہوں نے اولًا مقرر فرمایا،اور ان کے بھائی مدقق نے نہرمیں ان کی مخالفت کی، استدلال کرتے ہوئے اس مسئلہ سے جومنیہ میں مذکور ہے کہ کسی شخص نے اس حال میں نمازپڑھی کہ اس کے کپڑوں میں شراب یا انگورکاشِیرہ لگاہواتھا جوکہ کثیرفاحش نہ تھا تو مذہب اصح میں اس کی نمازہوگئی اھ درمیں دونوں بھائیوں کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع