30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
عالم ہے اور اس شرف وبزرگی والے کاعلم زیادہ تام اورزیادہ پختہ ہے۔(ت) |

__________________________
مسئلہ ۲۰: ازکلکۃ دھرم تلا نمبر۱ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۵جمادی الآخر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکۃ میں نمکین بسکٹوں میں منشی تاڑی بغرض خمیر ملائی جاتی ہے شیریں میں نہیں مگرمیدہ گوندھنے کے ظرف دونوں کے ایك ہی ہیں اوروہ تخۃ جس پربسکٹ بنائے جاتے ہیں وہ بھی ایک ہی ہوتاہے نمکین بسکٹ کے سیربھر آٹے میں پاوبھرتاڑی ملائی جاتی ہے نمکین کا کھاناجائز ہے یانہیں اورشیریں کاکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائے۔ت)۔
الجواب:
جوبہتی چیزنشہ رکھتی ہو مذہب صحیح میں اس کاقطرہ قطرہ نہ صرف حرام بلکہ نجس بھی ہے ھذا ھو قول محمد وھو الصحیح وعلیہ الفتوٰی(یہ ہی امام محمدعلیہ الرحمہ کاقول ہے،یہی صحیح ہے اور اسی پرفتوٰی ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں نمکین بسکٹ مطلقًا حرام ونجس ہیں،اورشیریں میں تین صورتیں،اگرثابت ہوکہ ان کے میدہ یاخمیر میں بھی اس نجاست کے اجزاء ضرور مخلوط ہوتے ہیں تویہ بھی حرام وناپاک،اوراگرتحقیق ہوکہ یہ محفوظ رہتے ہیں مثلًا انہیں التزام ہے کہ جب نمکین کے بعد شیریں بناتے ہیں تو دست وظروف کوبقدرکافی دھوڈالتے ہیں اس کے بعد شیریں کامیدہ گوندھتے بناتے ہیں اگرچہ اس دھونے سے ان کی نیت تطہیر نہ ہو بلکہ صرف اس خیال سے کہ ان میں نمکینی نہ آجائے یا اورکسی وجہ سے یہ دھونا ایساواقع ہوتاہے کہ نجاست کے اجزاء دست وظروف سے زائل ہوجاتے ہیں توشیریں مطلقًا حلال وطیب،اوراگرمشکوك ومحتمل ہو مثلًا ایك دن میں جس قدریکے بعد دیگرے بنتے ہیں ان میں تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع