30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بینہ وبین التصنع المذموم الاکما بین سواد العین وبیاضہ اوشفۃ المرء وفیہ من رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ[1]،نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔ |
سے روکنے اور بازرکھنے پرقادر ہو۔پس اس کے اور تصنع مذموم کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان ہے یاجتنی آدمی کے ہونٹ اور زبان کے درمیان ہے،اور جو کوئی چراگاہ کے چاروں اطراف کے ساتھ چرے تو اس چراگاہ میں چلے جانے کا قوی امکان ہے۔ہم اﷲ تعالٰی سے درگزر اور عافیت کاسوال کرتے ہیں۔(ت) |
نصاب الاحتساب وتاتارخانیہ وفتاوٰی خیریہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
|
لہ شرائط ان لایقوموا الامغلوبین ولایظھروا وجدا الاصادقین[2]۔ |
اس کے لئے شرائط ہیں،ایك یہ کہ وہ نہ اٹھیں مگرمغلوب ہوکر اور وجد کااظہار نہ کریں سوائے سچاہونے کی حیثیت کے۔(ت) |
منتقی شرح ملتقی پھرشامیہ میں ہے:
|
شرط الواجد فی غیبتہ ان یبلغ الی حدلوضرب وجھہ بالسیف لایشعر فیہ بوجع[3]۔ |
وجدکرنے والے کی وجدانی کیفیت گم سم ہوجانے کی حالت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس حد تك حاوی ہو کہ اگروجد والے کے چہرے پرتلوار کی ضرب(چوٹ)لگائی جائے تو تب بھی اسے درد کا احساس اور شعور نہ ہونے پائے۔(ت) |
خیریہ میں ہے:
|
فی التتارخانیۃ مایدل علی جوازہ للمغلوب الذی حرکاتہ کحرکات المرتعش وبھذا افتی البلقینی و برھان الدین الابناسی وبمثلہ احباب بعض ائمۃ |
فتاوٰی تتارخانیہ میں ہے کہ مغلوب الحال کے وجد کے جواز پر جوچیزدلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی حرکات رعشہ والے کی حرکات کی مانند ہوں۔(یعنی بے ساختہ اور بے اختیار ہوں) علامہ بلقینی اور علامہ برہان الدین ابناسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع