30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حرام الا ثلٰثۃ [1]۔ |
سوائے تین کے حرام ہے۔(ت) |
علامہ قہستانی سے ہے:
|
الاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق فانھا کلہا مکروھۃ لانھا زی الکفار[2]اھ مختصرًا |
اطلاق(یعنی بلاقیدذکرکرنا)نفس فعل اور اس کی سماعت کو شامل ہے جیسے ناچنا،مذاق کرنا اور تالیاں بجانا۔اس لئے کہ یہ سب مکروہ ہیں کیونکہ یہ عادات کفارہیں۔اھ مختصرًا(ت) |
اقول:تصدیق اس کی کہ تالی بجانا افعال کفارسے ہے،خود قرآن عظیم میں موجود اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
وَمَا کَانَ صَلَاتُہُمْ عِنۡدَ الْبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃً ؕ"[3]۔ |
نہ تھی ان کی نمازکعبے کے پاس مگرسیٹی اور تالی۔ |
معالم میں ہے:
|
قال ابن عباس والحسن،المکاء الصفیر والتصدیۃ التصفیق قال ابن عباس کانت قریش تطوف بالبیت وھم عراۃ یصفرون ویصفقون۔[4] |
عبداﷲ ابن عباس اور حسن بصری نے فرمایا قرآن مجید میں جولفظ"المکاء"آیاہے اس کے معنی سیٹی بجانا ہے اور تصدیہ کے معنی ہیں تالی بجانا۔ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ قریش کعبہ شریف کاننگے ہوکرطواف کرتے اور سیٹیاں اورتالیاں بجایاکرتے تھے(ت) |
اور جو فعل حرام ہے اس میں شریك ہونا اس کاتماشادیکھنابھی حرام ہے۔
|
کماافادہ فی غیرما مسئلۃ وقدسمعت الاٰن ان الاستماع کالفعل۔ |
جیسا کہ بہت سے مسائل میں اس کاافادہ کیا اور ابھی آپ نے سنا(پڑھا)کہ سننا فعل کی طرح ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع