30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتا ہے کہ اس کو قیامت کے روز اندھا کرکے اٹھاؤں گا۔اس مضمون کو بڑے زور شور سے بیان کیا،دوسرے روز بعض اصحاب علم نے اس شخص سے کہا کہ تو نے جو ذکر سے ہیئت کذائی مذکورہ مراد لیا سوسراسر غلط اور خلاف اصحاب تفسیر ہے دیکھ تفسیر جلالین۔یہ سنتے ہی اس شخص نے کہا کہ تفسیر جلالین ظاہری تفسیر ہے اہل باطن کے لیے قاعدہ دوسرا ہے،انجام اس نے تفسیر جلالین کو حقارت کا الزام دیا،بنابر اس کے دریافت کیا جاتاہے:
(۱)جو مسلمان اس محفل سے نکل گئے وہ قیامت کے روزاندھے ہوکے اُٹھیں گے۔یہ بات صحیح ہے یانہیں؟
(۲)مذکورہ شخص ذکر سے یہ ہیئت کذائی مراد لیاسو درست ہے یانہیں؟
(۳)"وَمَنْ اَعْرَضَ عَنۡ ذِکْرِیۡ"[1]سے یہاں کیامراد اور شان نزول اس آیت کاکیاہے؟
(۴)تفسیرجلالین کی جو حقارت کرے اس کے لئے شرع شریف میں کیاسزاہے؟
(۵)جومسلمان اس مجلس سے نکل گئے وہ قیامت کے روز اندھے ہوکر اٹھیں گے،یہ بات صحیح نہیں تو ایسے الفاظ سے مسلمانوں پرتہمت ڈالنے والاشخص ازروئے اسلام کون ہے؟
(۶)تفسیرجلالین کی حقارت کرنے والے پرکفرثابت ہوتاہے یانہیں؟
(۷)ایسے شخص کے پیچھے نمازدرست ہے یانہیں؟
(۸)تجدیداسلام یاتوبہ لازم ہوتاہے یانہیں؟
(۹)ان حلقے والوں کاذکر جس کی ہیئت اوپر ذکرکی گئی ہے ایساذکراور رقص اور تصفیق(تالی بجانا)شرع شریف میں درست ہے یا نہیں؟ زاور جوشرع کو ایساویسا سمجھے اور معرفت کادعوٰی کرے لوگوں کو بموجب شرع شریف کیاکہناچاہئے؟ بیّنواجزاکم اﷲ فی الدارین(بیان فرماؤ کہ اﷲ تعالٰی دنیاوآخرت میں تمہیں بہترین عطافرمائے۔ت)
الجواب:
حلقہ ذکرجبکہ نہ بروجہ ریاوسمعہ بلکہ خالصًا لوجہ اﷲ ہو فی نفسہٖ امرمحبوب ومندوب ہے اور اس میں حضور شرعًا مامورومطلوب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا۔جب تم جنت کی کیاریوں پرگزرو تو ان کے پھل پھول سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع