30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا حسا ن بن ثابت انصاری رضی الله تعالٰی عنہ کے لیے خاص مسجد اقدس میں منبر رکھنا اوران کا اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سنانا اور حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام کا استماع فرمانا خود حدیث صحیح بخاری شریف سے واضح اور عرب کے رسم حدی زمانہ صحابہ وتابعین بلکہ عہد اقدس رسالت میں رائج رہنا خوش الحانی رجال کے جواز پر دلیل لائح،انجشہ رضی الله تعالٰی عنہ کے حدی پر حضور والا صلوات الله تعالٰی وسلامہ علیہ نے انکار فرمایا بلکہ بلحاظ عورات یا انجشہ روید الاتکسر القواریر[1] ارشاد ہواکہ ان کی آواز دلکش ودل نواز تھی عورتیں نرم ونازك شیشیاں ہیں جنہیں تھوڑی ٹھیس بہت ہوتی ہے، غرض مدارکار تحقق وتوقع فتنہ ہے،جہاں فتنہ ثابت وہاں حکم حرمت،جہاں توقع واندیشہ وہاں بنظر سد ذریعہ حکم ممانعت،جہاں نہ یہ نہ وہ،نہ یہ نہ وہ بلکہ بہ نیت محمود استحباب موجود۔بحمدالله تعالٰی یہ چند سطروں میں تحقیق نفیس ہے کہ ان شاء الله العزیز حق اس سے متجاوز نہیں،
|
نسأل الله سوی الصراط من دون تفریط والافراط، والله اعلم بالصواب۔ |
ہم الله تعالٰی سے سیدھی راہ کاسوال کرتے ہیں جوافراط وتفریط سے محفوظ ہو،الله تعالٰی راہ صواب کو خوب جاننے والا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۳: ازملك بنگالہ شہر نصیر آباد قصہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کارخیر مثل وعظ وغیرہ کے واسطے دُھل سے خبر کرنا جائز ہے یانہ ؟ یعنی ایسا مقام ہوکہ وہاں عوام الناس بہت ہی دین کے مسئلہ سے ناواقف اور وہاں کوئی علیم جاکر ڈھنڈورہ پٹوائے کہ فلاں روز میں وعظ کروں گا بقصد فائدہ عام اس صورت میں جائز ہو گا یا نہیں ؟ بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے،ت)
الجواب :
ظاہرجواز ہے اور بذریعہ اشتہار اعلان انسب،درمختار میں ہے:
|
من ذلك ضرب النوبۃ للتفاخر للتنبیہ فلاباس بہ[2]۔ |
اسی لہو میں سے یہ بھی ہے کہ باری پر دف بجانا آپس میں فخر جتانے کے لیے،اور اگر آگاہ اور ہوشیار کرنے کے لیے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع