30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رضی الله تعالٰی عنہما عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ |
شعب الایمان میں حضرت جابر رضی الله تعالٰی عنہ کی سند سے حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی۔ت) |
اور اہل الله کے حق میں یقینًا جائز بلکہ مستحب کہئے تو دور نہیں،گانا کوئی نئی چیز پیدانہیں کرتا بلکہ دبی بات کو ابھارتا ہے جب دل میں بری خواہش بیہودہ آلائشیں ہوں تو انھیں کو ترقی دے گا اور جوپاك مبارك ستھر ے دل شہوات سے خالی اور محبت خدا ورسول سے مملو ہیں ان کے اس شوق محمود وعشق مسعود کو افزائش دے گا وحکم المقدمۃ حکم ماھی مقدمۃ لہ انصافا(مقدمہ کا حکم وہی ہے جو اس چیز کا حکم کہ جس کے لیے مقدمہ وضع کیا گیا۔ت)ان بندگان خداکے حق میں اسے ایك عظیم دینی کام ٹھہرانا کچھ بے جانہیں۔فتاوی خیریہ میں ہے:
|
لیس فی القدر المذکو ر من السماع مایحرم بنص ولا اجماع وانما الخلاف فی غیر ماعین والنزاع فی سوی ما بین وقد قال بجواز السماع من الصحابۃ جم غفیر (الی ان قال)اماسماع السادۃ الصوفیۃ رضی الله تعالٰی عنھم فبمعزل عن ھذا الخلاف بل ومرتفع عن درجۃ الاباحۃ الی رتبۃ المستحب کما صرح بہ غیر واحد من المحققین۔[1] |
سماع کے متعلق قدر مذکو ر میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کو نص اور اجماع سے حرام ٹھہرائے ہاں البتہ اختلاف اس کے بغیر ہے کہ جس کو معین کیا گیا اور نزاع اس کے علاوہ ہے کہ جس کو بیان کیا گیا اور صحابہ کرام اور تابعین عظام سے اہل علم کے جم غفیر نے سماع کے جواز کا قول نقل کیاہے(یہاں تك فرمایا)رہاسادات صوفیائے کرام کا سماع تووہ اس اختلاف سے دور ہے بلکہ وہ درجہ اباحت سے رتبہ استحباب تك پہنچا ہوا ہے جیساکہ بہت سے اہل تحقیق نے تصریح فرمائی ہے۔ (ت) |
یہ اس چیز کا بیان تھا جسے عرف میں گانا کہتے ہیں اور اگر اشعار حمد و نعت ومنقبت ووعظ وپند وذکر آخرت بوڑھے یا جوان مرد خوش الحانی سے پڑھیں اوربہ نیت نیك سنے جائیں کہ اسے عرف میں گانا نہیں بلکہ پڑھنا کہتے ہیں تو اس کے منع پر شرع سے اصلا دلیل نہیں،حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع