30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں:
|
ھذا یفید ان اٰلۃ اللھو لیست محرمۃ لعینھابل لقصد اللھو منھا اما من سامعھا اومن المشتغل بھا و بہ تشعر الاضافۃ الاتری ان ضرب تلك الالۃ بعینھا حل تارۃ وحرم اخری باختلاف النیۃ بسماعھا و الامور بمقاصدھا وفیہ دلیل لساداتنا الصوفیۃ الذین یقصدون بسماعھا امورًا ھم اعلم بھا فلا یبادر المعترض بالانکار کی لایحرم برکتھم فانھم السادۃ الاخیار امدنا لله تعالٰی بامدادتھم و اعاد علینا من صالح دعواتھم وبرکاتھم [1]۔ |
یہ بات فائدہ دیتی ہے کہ آلہ لہو بعینہ(بالذات)حرام نہیں بلکہ ارادہ وعمل لہو کی وجہ سے حرام ہے خواہ یہ سامع کی طرف سے ہو یا اس سے مشغول ہونے والے کی طرف سے ہو، "اضافت "سے یہی معلوم ہوتا ہے،کیا تم دیکھتے نہیں کہ کبھی اس آلہ لہو کو بعینہ بجانا اور استعمال کرنا حلال ہو تا ہے اور کبھی حرام،اور اس کی وجہ اختلاف نیت ہے،پس کاموں کے جائز اور ناجائز ہونے کا دارومدار ان کے مقاصد پر مبنی ہوتا ہے،اس میں ہمارے سادات صوفیہ کی دلیل موجو د ہےکہ وہ سماع سے ایسے رموز کا ارادہ رکھتے ہیں کہ جن کو وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں لہذا اعتراض کرنے والا انکار کرنے میں جلدی نہ کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی برکت سے محروم ہو جائے، کیونکہ وہ پسندیدہ سادات ہیں پس ان کی امداد سے الله تعالٰی ہماری مدد فرمائے،اور ان کی نیك دعاؤں اور برکات کا ہم پر اعادہ فرمائے یعنی انھیں ہم پر لوٹادے۔(ت) |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بلکہ یہاں ایك درجہ اور وجہ ادق واعمق ہے صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں رب العزت تبارك وتعالٰی فرماتاہے:
|
لایزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی بیصر بہ ویدہ |
یعنی میرا بندہ بذریعہ نوافل میری نزدیکی چاہتا رہتاہے یہاں تك کہ میرا محبوب ہوجاتاہے پھر جب میں اسے دوست رکھتا ہوں تو میں خود اس کاوہ کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع