30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشطرنج حرام بالاجماع واماالشطرنج فاللعب بہ حرام عندناوالذی یلعب ان قامر سقطت عدالتہ لم تقبل شہادتہ اھ [1]ملخصًا |
اورشطرنج کھیلنابھی ہمارے نزدیك حرام ہے۔ اوروہ شخص جو کھیلے اگرجوئے کی بازی لگائے تواس کی عدالت ساقط ہوجائے گی لہذااس کی گواہی قبول نہ ہوگی اھ ملخصًا(ت) |
ہاں اتناہے کہ اگر بدکرنہ ہوتوایك آدھ بارکھیل لینا گناہِ صغیرہ ہے اوربدکرہویاعادت کی جائے یااس کے سبب نمازکھوئیں یاجماعتیں فوت کریں توآپ ہی گناہِ کبیرہ ہوجائے گی۔اسی طرح ہر کہیل اورعبث فعل جس میں نہ کوئی غرضِ دین نہ کوئی منفعتِ جائزہ دنیوی ہوسب مکروہ وبیجاہیں کوئی کم کوئی زیادہ۔درمختارمیں ہے:
|
وکرہ کل لھولقولہ علیہ الصلٰوۃوالسلام کل لھو المسلم حرام الاثلثۃ ملاعبتہ باھلہ وتادیبہ للفرسہ ومناضلتہ بقوسہ۔[2] |
ہر کھیل مکروہ ہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلٰوۃوالسلام نے ارشاد فرمایامسلمان کاہرکھیل حرام ہے سوائے تین کے، خاوندکااپنی اہلیہ سے کھیلنا،اپنے گھوڑے کوشائستگی سکھاتے ہوئے اس سے کھیلنا،اپنی کمان کے ساتھ تیر اندازی کرنا۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
کل لھو ای کل لعب وعبث فالثلثۃبمعنی واحدکمافی شرح التاویلات[3] الخ،والله تعالیٰ اعلم۔ |
ہرلھویعنی کھیل اوربے فائدہ کام۔پس تینوں ہم معنٰی ہیں، جیساکہ شرح تاویلات میں ہے الخ والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲: از جالندھر محلہ راستہ پھگواڑہ دروازہ مرسلہ شیخ محمد شمس الدین صاحب ۲۲ رجب ۱۳۱۰ھ
راگ یامزامیر کرانا یاسننا گناہ کبیرہ ہے یاصغیرہ ؟ اس فعل کامرتکب فاسق ہے یا نہیں ؟
الجوا ب:
مزامیر یعنی آلات لہو ولعب بروجہ لہو ولعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیاء وعلماء دونوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع