30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب حرکات عقل وشرع دونوں کے خلاف تھیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(گناہوں سے کنارہ کش ہونے اوربھلائی کرنے کی قوت کسی میں موجود نہیں بجزاﷲتعالٰی عظمت وشان والے کی توفیق کے۔اﷲ تعالٰی پاك وبرتر اوربڑاعالم ہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۰: ۱۰/صفر۱۳۲۱ھ
خالد کو اس کے چچا نے ہدایت کی کہ باہمی نزاع کی بابت خط وکتابت مسدود رہنا قرین مصلحت ہے اب اگرظن غالب کی بناپر بکر اپنے بھتیجے خالد کے خطوط خود وصول کرکے اس کو نہ دے حالانکہ خالد تبری کرتا ہے کہ ہرگزمیرے کسی خط میں اس ہدایت کاخلاف نہ کیاگیامگر بکرکو بوجہ مرتبہ بادر ہونے کے سبب خالد کی یقین نہیں آیا ان وجوہ سے بکر معصیت کامرتکب قرارپائے گا یانہیں؟ نیزاگر ان میں بابت نزاع باہمی تذکرہ ہوتوکیا بکر کو امور متذکرہ بالا کا اختیارحاصل ہے یانہیں؟
الجواب:
بکرکواصلًا اختیارنہیں،نہ خالد کے خطوط روکنے کا،نہ دیکھنے کا،اور وہ ضرورگنہگارہوگا،حدیث میں ارشاد ہواکہ جوبلاضرورت دوسرے کا خط دیکھے وہ جہنم کی آگ دیکھتاہے [1]۔اوربدگمانی دوسراگناہ ہے اورتجسس تیسراگناہ۔اوریہ سوال کہ اگران میں خلاف ہدایت ہو تو امومذکورہ کا اختیار ہے یانہیں محض بے معنی ہے بے دیکھے کیونکرمعلوم ہوگا کہ خلاف ہدایت ہے،غرض یہ سب کاروائی خود خلاف ہدایت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۱:ازملك گجرات ضلع احمدآباد شہرپیران پاٹن محلہ محمدی دارہ معرفت سیدعبدالقادر صاحب رسیدہ اصغراحمدصاحب بنگالی پنجشنبہ ۱۶ شوال ۱۳۳۴ھ
حضرت شمس علماء الدین،اسوۃ الحکماء المحققین،اعنی مخدومنا ومکرمنا جناب مولانا احمدرضاخان صاحب حفظہم الواہب من النوائب۔بعد الف الف سلام معروض اینکہ حضور والا کے ارشاد کے بعد جب مراجعت الی الکتب کیا فی الواقع جواب لسان وعلی الفور واجب ہے،اورعلامہ مناوی نے تخیربین اللفظ والمراسلۃ(زبانی جواب دینا اوربذریعہ خط جواب دونوں میں(مکتوب الیہ کو) اختیارہے۔ت)لکھاہے مگرعلامہ شامی نے اسی کا بعد ہی خط کاجواب دینے کو واجب لکھاہے وھو لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی"ردجواب الکتاب حق کردالسلام"[2] (لیکن امام سیوطی نے جامع صغیر میں فرمایا خط کاجواب دینابالکل سلام کے زبانی جواب دینے کی طرح واجب ہے۔ت)اگر اس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع