30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الزام نہیں۔
|
فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:من اطلع فی بیت قوم بغیر اذنھم فقد حل لھم ان یفقأوا عینہ[1]۔ |
بخاری اورمسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی نے لوگوں کے گھروں میں بغیران کی اجازت کے جھانك کردیکھا تو بے شك ان گھر والوں کیلئے حلال ہے کہ اس کی آنکھ نکال دیں۔(ت) |
بلکہ دوسری حدیث میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایمارجل کشف سترا فادخل بصرہ من قبل ان یؤذن فقداتی حدا لایحل لہ ان یأتیہ ولوان رجلا فقأعینہ لھدرت۔رواہ الامام احمد فی مسندہ[2] عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جوشخص کوئی پردہ کھول کر قبل اجازت نگاہ کرے وہ ایسی ممنوع بات کامرتکب ہے جو اسے جائزنہ تھی اور اگرکوئی اس کی آنکھ پھوڑدے توقصاص نہیں۔(امام احمدنے اس کو اپنی مسندمیں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ ت) |
انصاف سے دیکھئے تولفافہ چاك کرکے خط پڑھنا بھی ایك قسم کاپردہ کھول کرنگاہ کرناہے اور فقط ابتدائی مضمون دیکھاپورانہ پڑھا یعنی دروازہ ہی میں سے جھانکا سارامکان کب نظرپڑا اور طرفہ یہ کہ چاك شدہ بے بند کئے واپس کیا،شاید اسے بھی ذلیل نیك نیتی ٹھہرادیاجاتا کہ فریب ہوتا توبند کردیاجاتا کیابند کرنے میں گناہ تھا جو اس سے بازرہنا وجہ برأت ہوا یعنی مکان غیرمیں بے اجازت قُفل توڑکرجائیے اورنیك نیتی کاثبوت یہ کہ ہم نے دروازہ کھلاہی چھوڑدیا،طرہ یہ کہ خط زید بنام عمروبکرنے دیکھا اور خالد کوبھیج دیا گویا خود مالك خط تھا کہ جوچاہاکیاجب ساراخط نہ دیکھاتھا توکیامعلوم شاید اس میں کوئی مضمون خالد کے خلاف ہی ہوتا اس کامطلع ہونا ان مسلمانوں کے ضررکاسبب ہوتا،غرض یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع