30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والا مبلکہ المکتوب الیہ عرفا [1]۔ |
اور اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا،اوراگریہ صورت نہ ہوتو عرف اور رواج کے مطابق مکتوب الیہ یعنی جس کی طرف خط لکھاگیا وہ اس کامالك ہوگیا۔(ت) |
یہاں کہ خط مکتوب الیہ کے ہاتھ میں پہنچنے ہی نہ پایا بلاشبہہ ملك کاتب پرباقی رہا،
|
فان التملیك لایتم قبل القبض حتی لومات احدھما قبل التسلیم بطل کما نص علی فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر[2]۔ |
کیونکہ تملیک(کسی کومالك بنانا)قبضہ کرنے سے پہلے تام (مکمل)نہیں ہوتی اس لئے کہ سپردگی سے پہلے دونوں میں سے کوئی ایك اگرانتقال کرجائے تومعاملہ باطل ہوجاتاہے جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی کتب عربی میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔(ت) |
بے اس کے اذن کے لفافہ چاك کرنامِلك غیر میں تصرف ناجائز ہواکہ شرعًا حرام ہے،حدیث وفقہ کاحکم تو یہ ہے،باقی رہے اس کے بیہودہ عذرات جن کی بنا پر وہ نہ صرف اپنی برأت بلکہ الٹا ماجوری کامتمنی ہے بدتر ازگناہ ہیں واپسی میں ضائع ہونے کا اندیشہ تھاتویہ کاتب تھا مکتوب الیہ تھاکون تھا رکھنا واپس کرنا اس سے کیامتعلق تھا اس کے پاس لفافہ پڑھنے کو آیاتھا پرھ کرلانے والے کودے دیتا جومطالبہ ہوتا اس کے ذمہ ہوتا اسے مداخلت بیجاکاکس نے حکم دیاتھا ایسی ہی خیراندیشی مدنظر تھی توخط محفوظ رہنے کی ہدایت کرکے کاتب کواطلاع دی ہوتی وہ جوکہتا اس پرعمل کیاجاتانہ یہ غضب وخیانت کہ ملك غیرچاك نامہ غیرمیں نظر بےباك یعنی زید نے ایك بکری عمروکہ ہدیۃً بھیجی،عمرو مرچکاتھا لانے والا بکرکے پاس لایایہاں جنگل میں شام ہوگئی واپس کرنے میں اندیشہ تلف تھا بکرنے بکری براہ خیراندیشی وہیں ذبح کرکے چھ لی،یہ خیال کہ شاید کوئی امرضروری مفیدکتاب یا مکتوب الیہا ہویہ خیال نہ کیاکہ شاید کوئی امر رازکاہو جس پر اطلاع میں ان کی مضرت ہوپرائے مکان میں بے استیذان جانا شرع نے احتمال ضرر کے سبب حرام فرمایا اوراحتمال نفی کی بنا پراجازت نہ دی یہ خیالات سب مناقض شرح محض وسوسہ شیطانی تھے کہ معصیت پرباعث ہوئے سرسری نگاہ سے دیکھنا بھی دیکھنا ہے آخراس سے مضمون پراطلاع پائی تویہ کیاعذر ہو سکتا ہے، جیسے کسی کے دروازہ میں سے جھانکے اور کہے ہم نے بغورتو نہیں دیکھا۔اسی بنا پر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس حالت میں اس کی آنکھیں پھوڑدیں تو کچھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع