30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی اپنے ماموں صاحب کی زوجہ کاہی یہ خط ہے اور چونکہ وہ امرجو ابتداء سے معلوم ہوگیا اس خط کے پڑھنے سے متعلق مکتوب الیہا کے تہائی سے معلوم ہوا کہ ان لڑکیوں کے پیام کی نسبت اس میں لکھاہوا تھااس لئے بدون پورا پڑھے ہوئے خط کے اس کو لفافہ میں رکھ کے چاك شدہ بدون بند کئے ہوئے حاجی رمضان خاں جو اس خط کو لائے تھے ان کودے دیا اور کہہ دیا کہ حافظ غفورالدین صاحب یعنی برادرمکتوب الیہامرحومہ کودے دیں پس صورت حال یہ ہے اس کی نسبت یہ سوال ہے کہ خواہرزادہ مولوی صاحب نے لفافہ چاك کرکے اس کوسرسری گناہ سے دیکھ کے پھر اس کوجس شخص سے متعلق مضمون اس کا نظرآیا واپس بھیج دیا،ایساکرنے میں وہ عندالشرع گنہگار ہے یا موافق نیت اپنی کے عنداﷲ وعندالشرع ماجور ہے اور زوج مکتوب الیہا کے ملك عرب میں ہیں وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔بیّنواتوجوا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شخص مذکور گنہگار ومستحق وعیدہے،حدیث میں ہے حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من نظر فی کتاب اخیہ بغیر اذنہ فانما ینظر فی النار۔رواہ ابوداؤد [1] فی سننہ والحاکم وصححہ وابن منیع فی مسندہ والقضاعی وغیرھم فی حدیث عنا بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
جو اپنے بھائی کاخط بے اس کی اجازت کے دیکھے وہ بلاشبہہ آگ دیکھ رہاہے(امام ابوداؤد نے اس کو اپنی سنن میں روایت کیا اور محدث حاکم نے اس کی صحت تسلیم فرمائی اور ابن منیع نے اپنے مسند میں اور قضاعی وغیرہ نے حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے روایت کی۔ت) |
علماء فرماتے ہیں خط کاتب کی ملك ہے یہاں تك کہ اگروہ لکھے کہ اس پرجواب لکھ دے تو خود مکتوب الیہ کو اس میں تصرف جائز نہیں مالك کو واپس دینالازم،واپس نہ چاہے تو بحکم عرف مکتوب الیہ مالك ہوجائے گا۔جوہرہ نیرہ ومنح الغفار شرح تنویرالابصار وحاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
|
رجل کتب الٰی اٰخر کتابا وذکرفیہ اکتب الجواب علی ظھرہ لزمہ ردہ ولیس لہ التصرف فیہ |
ایك آدمی نے کسی دوسرے آدمی کوخط لکھا اور اس میں یہ ذکرکیا کہ اسی قرطاس سوال کی پشت پر جواب لکھ دیں توا س خط کاواپس کرنا لازم ہوجاتاہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع