30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایھاالناس انّی قدعلمت انکم کنتم تونسون منّی شدّۃ وغلظۃ وذٰلك انی کنت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکنت عبدہ،وخادمہ[1]۔ |
لوگو! میں جانتاہوں کہ تم مجھ میں سختی ودرشتی پاتے تھے اور اس کاسبب یہ ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور میں حضورکابندہ اورحضورکاخدمت گزار تھا۔ |
اب توظاہر ہواکہ حدیث مسلم کو اس محل سے اصلًا تعلق نہیں،ذرا وہابی صاحب بھی اتناسن رکھیں کہ یہ حدیث نفیس جس میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے آپ کو عبدالنبی،عبدالرسول،عبدالمصطفٰی کہہ رہے ہیں،اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مجمع عام زیرمنبرحاضرہے،سب سنتے اورقبول کرتے ہیں۔
جناب شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی نے بھی ازالۃ الخفا ابوحذیفہ وکتاب مستطاب الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ میں استنادًا ذکرکی اور مقرررکھی،امیرالمومنین کوبجرم ترویح تراویح معاذاﷲ گمراہ بدعتی لکھ دیا،یہاں عیاذًا باﷲ مشرك کہہ دیجئے،اور آپ کے اصول مذہب نامذہب پرضرور کہنا پڑے گا مگرصاحبو! ذراسوچ سمجھ کرکہ شاہ ولی اﷲ صاحب کادامن بھی اسی پتھر کے تلے دباہوا ہے ع
یوں نظردوڑے نہ برچھی تان کر
اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،خیر،بات دورپہنچی،لفظ عبد وبندہ کی تحقیق تام وتفصیل احکام فقیر کی کتاب مجیرمعظم شرح اکسیر اعظم میں ملاحظہ ہو۔
یہاں یہ گزارش کرنی ہے کہ مولوی مجیب صاحب کے اس فتوٰی نے ادعائے ایہام کاکام تمام کردیا،عبدالنبی میں جناب کے نزدیك تین احتمال تھے:ایك شرک،ایك کذب،ایك صحیح،توناجائزاحتمال جائزسے دُونے تھے،با ایں ہمہ اس کاحکم صرف خلاف اولٰی فرمایا جوممانعت وکراہت تحریمی درکنار کراہت تنزیہی کوبھی مستلزم نہیں،ہرمستحب کاخلاف ترك خلاف اولٰی ہے مگرمطلقًا تنزیہی نہیں۔ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
|
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابد لھا من دلیل خاص[2]۔ |
مستحب کوترك کرنے پرکراہت لازم نہیں کیونکہ کراہت کے لے دلیل چاہئے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع