30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سخت ممنوع ومعترض الاحتراز ہوگی،یہاں مولٰی علی کوہادی کہنا حرام ہوگیا حالانکہ یہ احادیث صریحہ واجماع جمیع ائمہ اہلسنت و جماعت کے خلاف ہے،شاید یہ عذرکیجئے کہ ہدایت بمعنی خلق کا اشتباہ موجب منع تھا اس معنی پر اضافت قصدیہ ضرور حرام بلکہ ضلال تام ہے،نہ بمعنی تسبب کہ جائز ومعمول اہل اسلام ہے،مگریہ وہی عذرمعمول ہے جس کارَد گزرچکا،کیاجب مولٰی علی کی طرف اضافت کا اصلًا قصد ہی نہ ہو اس وقت تو بوجہ اشتراك معنی مولٰی علی کی جانب ہدایت بمعنی خلق کی اضافت کا اشتباہ ہوتا ہے اور جب بالقصد خود حضرت مولٰی علی ہی کی طر اضافت مراد ہوتواب وہ اشتراك معنی جاتا رہتا اور اشتباہ راہ نہیں پاتا،اگرمانع اشتباہ مخلوق کااس معنی کے لئے صالح نہ ہوناہے توصورت عدم قصد میں کیوں مانع نہیں،اور اگرباوصف عدم صلوح اشتباہ قائم رہتاہے توصورت قصدمیں کیوں واقع نہیں۔
حادی عشر: نہ صرف امیرالمومنین علی بلکہ انبیائے کرام ورسل عظام وخود حضورپرنورسیدالانام علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والتسلیم کسی کی طرف اضافت ہدایت اصلًا روانہ رہے گی کہ بوجہ احتمال معنی دوم ایہام شرك ہے،اب مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کوہادی کہنا بھی حرام ہوگیا،اوریہ قرآن عظیم وصحاح احادیث واجماع امت بلکہ ضروریات دین کے خلاف ہے۔
ثانی عشر: خودجناب مجیب نے اپنے فتاوٰی جلدسوم ۸۶ میں اس لزوم احتراز کارَدِّصریح فرمادیا اورادعائے ایہام کافیصلہ بول دیا۔فرماتے ہیں:
|
سوال:عبدالنبی یامانند آں نام نہادن درست است یانہ؟ جواب:اگراعتقاد ایں معنی ست کہ ایں کس کہ عبدالنبی نام دارد بندہ نبی است عین شرك است واگرعبدبمعنی غلام مملوك ست آں ہم خلاف واقع است واگرمجازًا عبدبمعنی مطیع ومنقاد گرفتہ شود مضائقہ ندارد لیکن خلاف اولٰی ست،روی مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم قال لایقولن احدکم عبدی و |
سوال:عبدالنبی یا اس جیسا نام رکھنادرست ہے یانہیں؟ جواب:اگریہ اعتقاد ہوکہ عبدالنبی نام والا شخص نبی کابندہ ہے توعین شرك ہے اور عبدبمعنی غلام مملوك مرادہو تو یہ خلاف واقع ہے اوراگرمجازًا عبدبمعنی مطیع لیاہوتومضائقہ نہیں ہے لیکن خلاف اولٰی ہے،امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اشاد فرمایا:کوئی شخص ہرگزعبدی(میراعبد)اوراَمتی(میری باندی) نہ کہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع