30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جاز التسمیۃ بعلی ورشید وغیرھما من الاسماء المشترکۃ ویراد فی حقنا غیرما یراد فی حق اﷲ تعالٰی[1]۔ |
علی،رشید اور ان کے علاوہ دیگراسماء مشترکہ کے ساتھ کسی کا نام رکھناجائز ہے لہٰذا ہمارے حق میں وہ معنٰی مراد لیاجائے گا جواﷲ تعالٰی کے حق میں مراد نہیں لیاجاتا۔(ت) |
کیوں نہیں کہتے کہ ایسے نام بوجہ اشتراك ناجائزہیں کہ دوسرے معنی شرك کااحتمال باقی ہے،ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہوں سے محفوظ رہنے اورنیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں سوائے اﷲ تعالٰی بزرگ وعظیم ذات کی توفیق کے۔ت)
رابعًا: سائل نے اپنی جہالت سے صرف عبداﷲ میں شرك سے سوال کیاتھا حضرت مجیب نے اپنی نبالت سے وغیرہ بھی بڑھا دیا کہ اپنے نام نامی کو ایہام شرك سے بچالیں مگرجناب کی دلیل سلامت ہے تو اس ایہام سے سلامت بخیر ہے۔عبدالحَی میں دوجزوہیں اوردونوں کے دودومعنی،ایك عبدمقابل الٰہ،دوم مقابل آقا۔
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ اَنۡکِحُوا الْاَیٰمٰی مِنۡکُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ ؕ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:لوگو! تم میں سے جونکاح کے بغیر (یعنی غیرشادی شدہ)ہیں اورجوتمہارے صالح غلام اور لونڈیاں ہیں ان کے ساتھ نکاح کردو(ت) |
دیکھو حق سبحانہ،نے ہمارے غلاموں کو ہمارا عبدفرمایا،یوں ہی ایك حی اسم الٰہی کہ حیات ذاتیہ،ازلیہ،ابدیہ،واجبہ سے مشعر،اور دوسرا من وتُو،زید وعمروسب پر صادق،جس سے آیت کریمہ "تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ"[3] (اے اﷲ تعالٰی! تو مردے سے زندہ نکالتاہے۔ت)وغیرہا مظہر، اب اگر عبد بمعنی اول اورحی بمعنی دوم لیجئے قطعًا شرك ہے وہی چار صورتیں ہیں اور وہی ایك صورت پرشرك موجود،پھر عبدالحَی ایہام شرك سے کیونکر محفوظ،اس سے بھی احتراز لازم تھا،بعینہ یہی تقریرحضرت بابرکت فاضل کامل صحیح العقیدہ سنی مستقیم جناب مستطاب مولانا مولوی عبدالحلیم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع