30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے احتراز لازم ہوجائے گا اور یہ بداہۃً قطعًا اجماعًا باطل ہے۔فاضل مجیب نے بھی عمربھر اپنے محاورات روزانہ میں ایسے ایہامات شرك برتے اور ان کی تصانیف میں ہزار درہزار ایسے شرك بالایہام بھرے ہوں گے،جانے دیجئے نماز میں وتعالٰی جدّك توشایدآپ بھی پڑھتے ہوں"جد"کے دوسرے مشہور ومعروف بلکہ مشہور تر معنی یہاں کیسے صریح شدید کفرہیں، عجیب کہ اتنے بڑے کفرکا ایہام جان کر اسے حرام نہ مانا توبات وہی ہے کہ ایہام میں تبادر وسبقت واقربیت درکارہے اور وہی ممنوع ہے نہ کہ مجرد احتمال،یہ فائدہ واجب الحفظ ہے کہ آج کل بہت جُہلا ایہام احتمال میں فرق نہ کرکے ورطہ غلط میں پڑتے ہیں۔
ثانیًا: ایسی ہی نکتہ تراشیاں ہیں تو صرف ہدایت علی پرکیوں الزام رکھئے مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کے نام پاك علی کو اس سے سخت ترشنیع کہئے وہاں توچار احتمالوں سے ایك میں آپ کو شرك نظرآیا تھا،یہاں برابر کامعاملہ نصفانصف کاحصہ ہے۔علی کے دومعنی ہیں علو ذاتی کہ بالذات للذات متعالی عن الاضافات ہو(بلندی بالذات یعنی ذاتی بلندی بغیر کسی سبب اور واسطہ کے صرف اس ہستی پاك ہی کے لئے ہے جو تمام اضافتوں اورنسبتوں سے مبرا اوربلند ہے۔ت)دوسرا اضافی کہ خلق کے لئے ہے اول کااثبات قطعًا شرك تو علی میں ایہام شرك ہدایت علی سے دوناٹھہرے گا ولایقول بہ جاھل فضلا عن فاضل(کوئی جاہل بھی یہ نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل یہ کہے۔ت)
ثالثًا: ایك علی ہی کیا جس قدر اسمائے مشترکہ فی اللفظ میں الخالق والمخلوق ہیں،جیسے رشید وحمیدوجمیل وجلیل وکریم وعلیم وحلیم ورحیم وغیرہا سب کا اطلاق عباد پر ویساہی ایہام شرك ہوگا جوہدایت علی کے ایہام سے دوچند رہے گا،حالانکہ خود حضرت عزت نے انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام میں کسی کو ایك کسی کو دونام اپنے اسمائے حسنٰی سے عطا فرمایا اور حضور پرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اسمائے طیبہ میں توساٹھ سے زیادہ آئے کمافصلہ العلماء فی المواھب [1]وغیرھا(جیساکہ علماء کرام نے مواہب لدنیہ وغیرہ میں مفصل بیان دیاہے۔ت) خودحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا نا م پاك حاشر بتایا،صحابہ کرام وتابعین وائمہ دین میں کتنے اکابرکانام مالك تھا ان کے ایہام کوکہئے،درمختار وغیرہ معتمدات میں تصریح کی کہ ایسے نام جائزہیں اورعباد کے حق میں دوسرے معنی مراد لئے جائیں گے نہ وہ جو حضرت حق کے لئے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع