30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ست یانہ؟ بیّنواتوجروا۔ |
ممانعت نہیں رکھتے،البتہ چوتھے احتمال میں ممانعت کا پہلو موجود ہے،پس تمام اسماء شرکیہ س یہی مفہوم ظاہرہوتا ہے لہٰذا جونام اسماء شرکیہ وغیر شرکیہ مشترکہ وغیرمشترکہ میں دائرہوتا ہو اس سے پرہیز لازمی اور واجب ہے،اگرکوئی شخص اسم مختلف فیہ پر قیاس کرتے ہوئے یاعلی کہنے کی ممانعت کرے تو اس کاقیاس درست متصورہوگا یا نہ؟ بیان فرماؤتاکہ اجروثواب پاؤ۔ |
الجواب:
|
ھوالمصوب لفظ علی کہ ازاسمائے الٰہیہ ست الف لام برآں زائدمیشود برائے تعظیم چنانکہ درالفضل والنعمان وغیرہ برلفظ علی کہ ازاسمائے مرتضٰی ست لام داخل نمی شود بناء ً علیہ ہدایت العلی اولٰی ست ازہدایت علی،چہ دراولٰی اشتباہ اضافت ہدایت بسوئے علی مرتضٰی نیست،ودرصورت ثانیہ بسبب اشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفط علی اشتباہ امر ممنوع موجودودراسامی ازہمچواسم کہ ایہام مضموم غیرمشروع سازداحتراز لازم بہ ہمیں سبب علماء ازتسمیہ بعبدالنبی وغیرہ منع ساختہ اند وامّا درعبداﷲ وغیرہ پس ایہام امرغیرمشروع نیست وہمچنیں دریاعلی ہرگاہ مقصود ندائے پروردگار باشد نزاعی نیست۔ حررہ ابوالحسنات عبدالحَی [1] |
وہی ٹھیك بتانے والاہے،لفظ علی جوکہ اﷲتعالٰی کے ناموں میں سے ہے اس کے ساتھ برائے تعظیم الف لام زائد ہوگا جیسے الفضل،النعمان وغیرہ اور لفظ علی جوبطور نام سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے استعمال ہوتاہے اس کے ساتھ الف لام زائد نہیں ہوتا لہٰذا اس بناء پرنام ہدایت العلی بنسبت ہدایت علی کے زیادہ بہترہے اس ئے کہ اول الذکر میں ہدایت کی نسبت کا حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ اشتباہ نہیں پایاجاتا اور دوسری صورت میں بوجہ استعمال لفظ ہدایت کے اشتراك کے سبب ایہام(مغالطہ)پیداہوتاہے اور لفظ علی میں اشتراك کی وجہ سے امرممنوع کا اشتباہ موجود ہے،پس اس سے پرہیز ضروری ہے،یہ وجہ ہے کہ علمائے کرام عبدالنبی نام رکھنے سے منع کرتے ہیں لیکن عبداﷲ وغیرہ میں ایہام غیر مشروع نہیں،اسی طرح یاعلی میں اگر اﷲ تعالٰی کوندا کرنا مقصودہو تو کوئی نزاع نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ابوالحسنات عبد الحَی نے اسے تحریرکیا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع