30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المواھب۔ |
شرح مواہب للدنیہ میں ذکرکیاہے۔ت) |
بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمدنام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انہیں اسمائے مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں۔غلام علی،غلام حسین،غلام غوث،غلام جیلانی اور ان کے امثال تمام نام جن میں اسمائے محبان خدا کی طرف اضافت لفظ غلام ہوں سب کاجواز بھی قطعًا بدیہی ہے۔فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ،نے اپنے فتاوٰی میں ان ناموں پرایك فتوٰی قدرے مفصل لکھا اورقرآن وحدیث اورخودپیشوایان وہابیہ کے اقوال سے ان کاجوازثابت کیا، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
"یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمْ غِلْمَانٌ لَّہُمْ کَاَنَّہُمْ لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوۡنٌ ﴿۲۴﴾"[1] |
ان کے غلام گشت کرتے ہوں گے گویا وہ موتی ہیں محفوظ رکھے ہوئے۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایقولن احدکم عبدی کلکم عبیداﷲ ولکن لیقل غلامی[2]،ھذا مختصر۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
ہرگز تم میں اب کوئی اپنے مملوك کویوں نہ کہے کہ میرابندہ تم سب خدا کے بندہ ہو ہاں یوں کہے کہ میراغلام۔(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
وہابیہ کے شرك ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہیں کہ خود قرآن وحدیث میں بھرے ہوتے ہیں خداورسول تك ان شرك دوستوں کے حکم شرك سے محفوظ نہیں والعیاذباﷲ رب العالمین(خدا کی پناہ جو تمام جہانوں کاپرورد گار ہے۔ت)
مزہ یہ ہے کہ لفظ غلام کی اسمائے الٰہیہ جل وعلا کی طرف اضافت خود ممنوع ہے اﷲ کاغلام نہ کہاجائے گا،غلام کے معنی حقیقی پسر ہیں،ولہٰذا عبید کوشفقۃً عربی میں غلام اردو میں چھوکراکہتے ہیں،سیدی علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں زیرحدیث فرماتے ہیں:
|
ولٰکن لیقل غلامی وجاریتی وفتائی |
مگروہ یوں کہے میراغلام،میری باندی،میراجوان، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع