30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت معروف ومشہور اوربہجۃ الاسرار شریف وغیرہ کتب ائمہ وعلماء میں مذکور، حق سبحانہ،وتعالٰی فرماتاہے: "فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ"[1] (پس آپ اپنی جانوں کوستھرا نہ بناؤ۔ت)۔فصول عمادی میں ہے:
|
لایسمیہ بما فیہ تزکیۃ[2]۔ |
کوئی اس نام کے ساتھ نام نہ رکھے جس میں تزکیہ کااظہار ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
یؤخذ من قولہ ولابمافیہ تزکیۃ المنع عن نحو محی الدین وشمس الدین مع مافیہ من الکذب والف بعض المالکیۃ فی المنع منہ مؤلفا وصرح بہ القرطبی فی شرح الاسماء الحسنی وانشد بعضھم فقال ؎ اری الدین لیستحیی من اﷲ ان یری وھذا لہ فخر وذاك نصیر فقد کثرت فی الدین القاب عصبۃ ھم مافی مراعی المنکرات حمیر وانی اجل الدین عن عزہ بھم واعلم ان الذنب فیہ کبیر ونقل عن الامام النووی انہ کان یکرہ من یلقبہ بمحی الدین ویقول لا اجعل من دعانی بہ فی حل ومال الٰی ذٰلك العارف باﷲ تعالٰی الشیخ سنان فی کتابہ |
مصنف کے قول"لابمافیہ تزکیۃ"سے معلوم ہوتاہے ممانعت مثل محی الدین وشمس الدین نام رکھنے میں ہے،علاوہ اس کے اس میں جھوٹ بھی ہے،اور بعض مالکی علماء نے ایسے ناموں کے ممنوع ہونے میں ایك کتاب لکھی ہے،اورقرطبی نے اس کی تصریح شرح اسماء حسنٰی میں کی ہے،اور بعض نے اس بارہ میں کچھ اشعار لکھے ہیں،پس کہاہے: میں دیکھتاہوں دین کو حیاکرتاہے اﷲ تعالٰی سے جو دکھایاجائے حالانکہ یہ اس کے لئے فخر ہے اور یہ اس کے لیے نصیر یعنی مددگار ہے،تحقیق بہت ہوئے دین میں القاب اس کے مددگاروں کے۔یہ وہ لوگ ہیں جوبرائیوں کی رعایت میں گدھے ہیں او ر تحقیق دین کی موت ان جیسے لوگوں نے ساتھ اس کی عزت میں کی ہے او رجان لے کہ اس میں ان کابڑاگناہ ہے۔ اورامام نووی سے نقل کیاہےکہ وہ محی الدین کے ساتھ اپنے ملقب ہونے کوناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص مجھے اس لقب سے پکارے گا میں اسے معاف نہیں کروں گا، اور اس کی طرف مائل ہوئے شیخ سنان عارف باﷲ اپنی کتاب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع