30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم:
|
انکم تدعون یوم القیٰمۃ باسمائکم واسماء اٰباءکم فاحسنوا اسمائکم۔رواہ احمد[1] وابوداؤد عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسندجیّد۔ |
بے شك تم روزقیامت اپنے اور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنے اچھے نام رکھو۔(اسے احمد اور ابوداؤد نے ابوالدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندجید روایت کیا۔ت) |
اگر اصلی معنی بالکل ساقط النظرہیں توفلاں نام اچھا فلاں براہونے کے کیامعنی،اور تبدیل کی کیاوجہ،اورخود ستائی کہاں،مسمی پر دلالت کرنے میں سب یکساں۔معہذا انہیں لوگوں سے پوچھ دیکھئے کیا اپنی اولادکانام شیطان ملعون،رافضی خبیث، خوك (سور)وغیرہ رکھنا گواراکریں گے؟ ہرگزنہیں توقطعًا معنی اصلی کی طرف لحاظ باقی ہے پھرکس منہ سے اپنے آپ اوراپن اولاد کو نبی کہتے اورکہلواتے ہیں،کیاکوئی مسلمان اپنایا اپنے بیٹے کارسول اﷲ یاخاتم النبیین یاسیدالمرسلین نام رکھنا روارکھے گا؟ حاشا وکلا،پھر محمدنبی،احمدنبی،نبی احمدکیونکر رواہوگیا،یہاں تك کہ بعض خدا ناترسوں کانام نبی اﷲ سنا ہے،ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،کیا رسالت وختم نبوت کااِدعاحرام ہے اور نری نبوت کاحلال،مسلمانوں کولازم ہے کہ ایسے ناموں کوتبدیل کردیں ؎
ہیچ پسند وخردجان فروز تاج شہی برسرك کفش دوز
(عقل،جان کوروشن ومنور کرنے والی اس بات کوکب گواراکرتی ہے کہ شاہی تاج ایك معمولی کفش دوز(موچی)کے سرپرسجایاجائے ۔ت)
عجب نہیں کہ ایسی علیل تاویل ذلیل تخییل والے شدہ شدہ اﷲ عزوجل یاالٰہ العالمین نام رکھنے لگیں کہ آخرعلم میں اصلی معنی تو ملحوظ نہیں والعیاذباﷲرب العالمین(اﷲ تعالٰی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔ت)اور نہ بھی رکھیں تو اس نام رکھنے کاجوازتوانہیں خواہی نخواہی مانناہوگا،جوتقریر محمدنبی کے جواز میں گھڑیں گے بعینہٖ وہی اﷲ عزوجل نام رکھنے کے جواز میں جاری ہوگی،اصلی معنی وہاں مرادنہیں تویہاں بھی نہیں وہ بے لحاظ معنی تبرکاکیوں نہ جائز ہوگا آخرنام الٰہی میں نام نبی سے زیادہ ہی برکت ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بجزاﷲ تعالٰی بلند
[1] سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،مسنداحمد بن حنبل عن ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع