30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم نہیں۔ت)اورنہ دیکھا کہ وہی رب عزوجل فرماتاہے:
|
"فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا ۚ"[1] |
توپھرایك پنچ مرد کے خاندان میں سے،اور ایك پنچ عورت کے خاندان میں سے مقررکرو۔(ت) |
یہ مضمون کہ جب تك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بخشیں گے اﷲ عزوجل نہ بخشے گا۔اس قائل سے پہلے حضرت شیخ سعدی قدس سرہ،نے فرمایا: ؎
ارحم الراحمین نہ بخشاید بے رضائے تویارسول اﷲ[2]
(سب سے زیادہ رحم وکرم فرمانے والا(اﷲ تعالٰی)نہ بخشے گا،یارسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)جب تك آپ کی مرضی نہ ہوگی۔ت)
حقوق العباد میں کہاجاتاہے کہ جب تك صاحب حق نہ بخشے اﷲ عزوجل نہ بخشے گا،اس کے یہ معنی کسی کے وہم میں نہیں آسکتے کہ معاذاﷲ اس کی مغفرت پر رب العزت قادرنہیں یامغفرت ذنوب میں کوئی اس کاشریك ہے،بندوں کامالك بھی وہی ہے اوربندوں کے حقوق کامالك بھی وہی ہے مگرصاحب حق کی دلداری کے لئے اس کی مغفرت اس کے بخشنے پرموقوف رکھی پھر وہ دلداری کہ اسے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی منظور ہے اس کی مقدارکاجاننا کس کامقدور ہے،صحیح بخاری میں ہے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں"ارٰی ربك یسارع فی ھواک"[3]میں حضورکے رب کودیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے۔حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بناکربھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں رؤف رحیم ہیں ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں جیسے کہ قرآن عظیم ناطق:
|
"لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ |
بیشك تمہارے پاس تمہاری ہی جانوں میں سے(ایك عظیم الشان)رسول تشریف لائے کہ تمہارا مشقت میں پڑنا انہیں نا گوارگزرتاہے،وہ تمہاری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع