30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ اب یہ لفظ مسلمانوں میں اجنبی ساہوگیا ہے لوگ اسرائیلی کومحمدی کے مقابل سمجھتے ہیں اور اجلہ اکابر کے کلام پاك میں یہ مقابلہ آیا ہے، حضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
|
یا اسرائیل قف واسمع کلام المحمدی [1]۔ |
ٹھہرجائیے اسے اسرائیلی! ذرامحمدی نسبت رکھنے والے(یعنی ایك مسلمان محمدی)کاکلام سن لیجئے(ت) |
نسبت نسب ومذہب دونوں اعتبارسے ہوتی ہے اور یہاں بحسب نسب یہ نسبت بہت کم مسموع،لہٰذاعوام مسلمین اسے سن کرچونکتے ہیں اوربلاضرورت ایسی بات پراقدام شرع مطہر کوپسندنہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
بشّروا ولاتنفّروا[2]۔ |
(لوگو!)خوشخبری سنایاکرو لہٰذا ایك دوسرے کو نفرت نہ دلایا کرو(ت) |
دوسری حدیث میں ہے:
|
ایاك ومایسوء الاذن[3]۔ |
اس سے بچو جوکانوں کوبری لگے(یعنی غیبت سے بچو)(ت) |
لہٰذاپنے نام کے ساتھ یہ نسبت لکھنی نامناسب وقابل ترك ہے مگرگناہ وحرام اب بھی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۸: از امرتسر کڑہ گرباسنگھ متصل مسجدکنجری والی دروازہ بھگتا نوالہ مرسلہ منشی نبی بخش ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ
حامی سنت،ماحی بدعت،مجددزماں جناب مولاناصاحب بفضل اولٰینا دامت فیوضہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ بعد سلام مسنون الاسلام کے خداوندکریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آنجناب کاوجود مبارك واسطے گنہگاروں کی ہدایت کے،اوراشرار و دشمنان دین محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مکروفریب کوملیامیٹ کرنے کے لئے پیداکیا۔دعاہردم ہے کہ خداوندکریم تا زمانہ ابد الدہرآنجناب کوسلامت باکرامت رکھے۔بعدازاں خدمت بابرکت میں ملتمس ہوں کہ بندے کانام نبی بخش ہے۔چونکہ فرقہائے اشرار زمانہ خصوصًا گروہ وہابیہ میں یہ مرض ہے کہ مسلمانوں سے بات بات کی مخالفت کرتے ہیں اگرچہ ان کاسراسر نقصان ہی ہوتا ہے۔بندے کانام توپہلے ہی وہابیوں کے جلانے کے لئے تھا لیکن بندے نے ان کو اور بھڑکاناچاہا یعنی اپنانام بجائے نبی بخش کے عبدالنبی کردیا۔نام تبدیل کرنے سے پہلے بندے نے ازحد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع