30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۰: ازشہرکہنہ ۱۲ رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری مسئولہ مصطفی علی خاں
جناب مولوی صاحب بعدادائے آداب کے گزارش یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آدمی بھیجتاہوں مہربانی فرماکر سوالوں کاجواب عنایت فرمادیجئے:
(۱)کنکیا اگرآکرگھرپرگرجائے اورمعلوم نہ ہوکہ کس کی ہے لے لینے سے گناہ تونہیں؟
(۲)کنکیا اُڑاناگناہ ہے یانہیں؟
(۳)بلی تکلیف دیتی ہو توا س کوبستی میں چھڑوانا گناہ تونہیں ہے؟
الجواب:
(۱)کنکیا لُوٹناحرام،اورخودآکرگرجائے تو اسے پھاڑڈالے،اوراگرمعلوم نہ ہو کہ کس کی ہے توڈور کسی مسکین کودے دے کہ وہ کسی جائزکام میں صَرف کرلے،اورخودمسکین ہوتواپنے صرف میں لائے،پھرجب معلوم ہوکہ فلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے پرراضی نہ ہو تودینی آئے گی اور کنکیا کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں۔
(۲)کنکیا اڑانا منع ہے اورلڑانا گناہ۔
(۳)بلی اگرایذادیتی ہو تو اسے باہرچھوڑدینے میں حرج نہیں اورتیزچھُری سے ذبح بھی کرسکتے ہیں مگر چھڑوانا ایسی جگہ جائزنہیں جہاں سے وہ اپنے کسی رزق تك نہ پہنچ سکے۔فقط۔
مسئلہ ۲۶۱: ازمقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار مرسلہ قاضی قاسم میاں ۱۱صفر۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تواریخ حبیب الٰہ ص ۹۲ میں بحوالہ مشکوٰۃ شریف بروایت حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نقل ہے کہ حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك قصہ نوجوان انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کو ارشاد فرمایا کہ مکانوں میں ایك قسم کے سانپ ہوتے ہیں کہ عوامر کہلاتے ہیں جب سانپ مکان میں نمودارہو تو تودیکھتے ہی نہ مارڈالو کہ تین دن اسے کہہ دو کہ پھرنہ نکلیو،پھراگر وہ دکھائی دے تو اسے مار ڈالو۔دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح کہہ کرکیا سانپ کوچھوڑدیاجائے یامارڈالناچاہئے؟ کیاجن بھی سانپ کی شکل نمودار ہوتے ہیں اور ان کی کچھ نشانی ہے یانہیں؟
الجواب:
یہ حکم حدیث میں مدینہ طیبہ کے لئے تھا اورجگہ اس کی حاجت نہیں کماحققہ الامام الطحاوی فی شرح معانی الآثار(جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع