30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ لاباس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرام،قولہ وقیدوہ ای جواز خصاء البھائم بالمنفعۃ وھی ارادۃ سمنھا اومنعھا عن العض بخلاف بنی آدم فانہ یراد بہ المعاصی فیحرم،افادہ الاتقانی عن الطحاوی[1]اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کوعلماء کرام نے اس کے فائدے کے ساتھ مشروط اورمقید کیاہے ورنہ اس کوخصی کرنا حرام کہاہے۔ فتاوٰی شامی میں مصنف کے قول قیل الفرس کے ذیل کیاہے کہ ہمارے اصحاب گھوڑے کو خصی کرنا جائزقراردیتے ہیں البتہ شیخ الاسلام نے بیان فرمایاکہ یہ حرام ہے۔مصنف کاقول قیدوہ یعنی جانوروں کوخصی کرنے کاجواز کسی منفعت سے مقیدہے مثلًا جانور کوموٹا اورطاقتوربنانایا یہ کہ وہ شوخی اور شرارت سے بازآجائے گا بخلاف بنی آدم کے کہ اس کے خصی ہونے یاکئے جانے سے کئی قسم کے گناہ جنم لیں گے۔علامہ اتقانی نے امام طحاوی کے حوالے سے یہ حکمت پیش کی ہے اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۵۶: ۹ربیع الاول شریف:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کبوتر اڑانا اورپان اورمرغ بازی،بٹیر بازی،کنکیّابازی اور فروخت کرنا کنکیّا اوڈور اور مانجھا جائزہے یاناجائز؟ اوران لوگوں سے سلام علیك کرنا اور سلام کا جواب دینا واجب ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
کبوترپالناجائزہے جبکہ دوسروں کے کبوترنہ پکڑے،اورکبوتراُڑاناکہ گھنٹوں ان کو اُترنے نہیں دیتے حرام ہے اور مرغ یابٹیر کالڑانا حرام ہے۔ان لوگوں سے ابتداء بسلام نہ کی جائے جواب دے سکتے ہیں،واجب نہیں۔کنکیّا اڑانے میں وقت،مال کاضائع کرناہوتاہے۔یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیّا ڈوربیچنا بھی منع ہے احتراز کریں تو ان سے بھی ابتداء بسلام نہ کی جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۷:اگربلی یاکتا وغیرہ آدمیوں کی چیز کانقصان کرتے ہوں یاکاٹ کھاتے ہوں توان کامارڈالناجائزہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب:
کاٹتے ہوں تو درست ہے قتل ان کا۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع