30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توصرف دوقسم کے کتے اجازت میں رہے ایك شکاری جسے کھانے یادوا وغیرہ منافع صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہو،نہ شکار تفریح کہ وہ خود حرام ہے،دوسرا وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو،ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں،غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں،آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے،خلاصہ یہ کہ اﷲتعالٰی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۵: ازبنگالہ ضلع جسرڈاکخانہ محمودپور موضع دہنوائل مرسلہ عزیزالرحمن ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں،جانوروں کاخصی کرانا جیسے بیل،بکرا،مرغ وغیرہ جائزہے یانہیں؟ اگرجائزہے تو کس طرح پر؟ اور یہ طریقہ کہاں سے ہے اور کس نے جاری کیا؟
الجواب:
جانوروں کے خصی کرنے سے اگرکوئی منفعت جائزہ مقصودہویاگوشت اچھاہونا جیسابیل،بکری وغیرہ میں مقصود ہوتاہے یا شرارت دفع کرنا جیساکہ گھوڑے وغیرہ میں قصد کیاجاتاہے جب تو جائزہے ورنہ حرام،صرف گھوڑے کے باب میں علماء ممانعت کی طرف گئے،مگرتحقیق یہ ہے کہ منفعت کے لئے ہوتو وہ بھی جائزہے البتہ آدمی کوخصی کرنا مطلقًا حرام ہے۔اوریہ طریقہ خصی کرنے کامشہور ومعروف اورزمانہ اسلام آنے سے پشترجاری ہے۔
|
فی الدرالمختار جازخصاء البھائم حتی الھرۃ واما خصاء الاٰدمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعۃ والافحرام[1]،فی ردالمحتار قولہ قیل الفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی |
درمختارمیں ہے کہ جانوروں کوخصی کرنا جائزہے یہاں تك کہ بِلّے کوخصی کرنابھی مباح اورجائزہے،جہاں تك انسان کاتعلق ہے اسے خصی کرنے کی اجازت ہرگزنہیں،مرد کو خصی کرنا حرام ہے،یہ بھی کہاگیا ہے کہ گھوڑے کوخصی کرنا حرام ہے،اور اس کے خصی کئے جانے کے جواز |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع