30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ قیل والفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ لا باس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرام[1]۔واﷲ تعالٰی علم۔ |
مصنف کاقول"والفرس"شمس الائمہ حلوانی نے ذکرفرمایا کہ گھوڑے خصی کرنے میں ہمارے اصحاب کے نزدیك کوئی حرج نہیں جبکہ شیخ الاسلام نے ذکرفرمایا کہ اسے خصی کرنا حرام ہے،ط۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۵۴: ۲۰ربیع الآخرشریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ سگ کاپالناجائزہے یانہیں؟ اورکبوتر پالنا بِلااڑانے کے،بٹیربازی ومرغ بازی وشکرہ وبازپالنا اور ان سے شکارپکڑوانا اورکھانا درست ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
شکراوب ازپالنادرست ہے،اور ان سے شکار کرانا اوراس کاکھانا بھی درست ہے۔
|
لقولہ تعالٰی "وَمَا عَلَّمْتُمۡ مِّنَ الْجَوَارِحِ"[2] الآیۃ۔ |
اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اورجن زخمی کرنے والے جانوروں کوتم نے شکار کرنے کاطریقہ سکھارکھاہے۔ (ت) |
مگریہ ضرورہے کہ شکارغذا ودوا یاکسی نفع صحیح کی غرض سے ہو،محض تفریح ولہوولعب نہ ہو،ورنہ حرام ہے،یہ گنہگار ہوگا،اگرچہ ان کاماراہواجانور جبکہ وہ تعلیم پاگئے ہوں اور بسم اﷲ کہہ کرچھوڑا ہو حلال ہوجائے گا۔
|
فان حرمۃ فی کونہ ذکاۃ شرعیۃ لکن سمی اﷲ تعالٰی وضرب الغنم من قفاہ حر الفعل |
کسی شکاری جانور کومحض تفریح طبع کے طورپر شکار کرنے کے لئے چھوڑنے کی حرمت اس کے شرعی طورپرذبح ہونے کے منافی یامخالف نہیں لیکن اﷲ تعالٰی کانام لے کرچھوڑے جیسے کسی شخص نے اﷲ تعالٰی کانام لے کربکری کی گدّی کی طرف سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع