30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاذا خالفوا فقد نقضوا عھدھم فلاحرمۃ لھم اولاولٰی ھو الانذار والاحذار[1]اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
سامنے ظاہرہونا،جب وہ اس عہد کی مخالفت کریں تو گویا وہ عہدشکنی کے مرتکب ہوئے لہٰذا ان کی حرمت باقی نہ رہی ہاں البتہ انہیں ڈرانا اورہوشیارکرنازیادہ بہترہےاھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۵۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل اوربکرے کو خصّی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
بالاتفاق جائزہے کہ اس میں منفعت ہے۔خصی کاگوشت بہترہوتاہے اور خصی بیل محنت کی زیادہ برداشت کرتاہے،اورتحقیق یہ ہے کہ اگرجانورکے خصی کرنے میں واقعی کوئی منفعت یادفع مضرت مقصود ہوتو مطلقًا حلال ہے اگرچہ جانور غیرماکول اللحم ہومثلًا بلی وغیرہ ورنہ حرام ہے،اسی اصل کی بناء پرہمارے گھوڑے کوخصی کرنا بھی جائزجانتے ہیں جبکہ مقصود دع شرارت ہواگرچہ بعض منع فرما تے ہیں:
|
لمافیہ من تقلیل آلۃ الجہاد اقول الموجود لایعدم والمرھوم لایعتبر الاتری ان العزل یجوز عن الاٰمۃ مطلقا وعن الحرۃ باذنھا بخلاف الاکل فان فیہ اعدام موجود۔ |
اس لئے کہ اس میں آلہ جہاد کی تقلیل ہے،میں کہتاہوں کہ موجود معدوم نہیں ہوتا اورموہوم کا اعتبارنہیں ہوتا کیاتم نہیں دیکھتے کہ لونڈی سے"عزل"علی الاطلاق جائزہے جبکہ آزاد عورت سے اس کی اجازت پرموقوف ہے بخلاف کھانے کے کہ اس میں موجود کومعدوم کرناہے۔(ت) |
ہاں آدمی کاخصی کرنا بالاجماع مطلقًا حرام ہے۔درمختارمیں ہے:
|
وجاز خصاء البھائم حتی الھرۃ واما خصاء الاٰدمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعۃ والافحرام [2]۔ |
چوپایوں کوخصی کرنا جائزہے لیکن آدمی کوخصی کرنا حرام ہے اور کہاگیا کہ گھوڑے کوبھی۔اورفقہائے کرام نے خصی کرنے میں فائدہ اورنفع کی قید لگائی ہے اور اگریہ نہ ہو تو پھرحرام ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع