30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
او ان یسرہ المولی سبحٰنہ وتعالٰی ولہ الحمد اقول وبہ انفصل وﷲ الحمد خلاف مانقلہ القہستانی عن المحیط فی اتخاذ الراس ونقلہ عنہ فی ردالمحتار ولم یذکروا فیہ ترجیحا فثبت بحمداﷲ تعالٰی ترجیح المنع اقول:ثم لایذھبن عنك وان المراد بالاتخاذ الاقتناء کما فی قول القہستانی بعدہ باسطر،یکرہ اتخاذ الصور فی البیوت[1]،ثم قولہ بعدہ لایکرہ اتخاذھا[2] ان صغرت اما اصطناعہ فلایجوز بحال وان صرح علماؤنا بجواز اتخاذ الانف والسن والاصبع من فضۃ لمقطوعھا فان الفرق بین ماذکروا وبین اتخاذ الرأس ممالایخفی علی بلید فضلا عن عاقل،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کہ(اس معاملہ میں)اﷲ تعالٰی مجھ پرحق کھول دے گا یہاں تك کہ یہ وقت آپہنچاکہ جس میں اﷲ تعالٰی پاك اوربرترنے (اس عقدہ کو)مجھ پرآسان کردیا لہٰذا اسی کے لئے تعریف و ستائش ہے اقول:(میں کہتاہوں)جبکہ اﷲ تعالٰی کے لئے حمدو ستائش ہے اس سے وہ اختلاف الگ اورجداہوگیا کہ جس کو علامہ قہستانی نے محیط کے حوالے سے سربنانے کے متعلق نقل کیا اور فتاوٰی شامی میں اس کونقل فرمایا لیکن اس میں ائمہ کرام نے کوئی ترجیح ذکرنہیں،میں کہتاہوں پھرآپ سے کہیں یہ بات رہ نہ جائے کہ یہاں اتخاذ سے اقتناء(حفاظت کرنا)مرادہے جیسا کہ چندسطروں بعد علامہ قہستانی کایہ قول موجود ہے گھروں میں حفاظت سے تصویریں رکھنا منع ہیں"۔ لیکن اس کے کچھ بعد انہوں نے فرمایا کہ اگر تصویریں چھوٹی چھوٹی ہوں تو ان کاگھروں میں رکھنامکروہ نہیں لیکن ان کابنانا کسی حال میں بھی جائزنہیں،اگرچہ ہمارے علماء کرام نے یہ تصریح فرمائی کہ چاندی کی ناک،دانت اور انگلی بنانا جائزہے اور اس کی وجہ ان کامقطوع ہونا ہے اس لئے کہ جوکچھ انہوں نے ذکرفرمایا اس کے اور سربنانے کے درمیان واضح فرق ہے جو کسی بے عقل سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ صاحب عقل سے مخفی رہ جائے،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
رابعًا اقول: وباﷲ التوفیق(میں تعالٰی کی توفیق ہی کے حوالے سے کہتاہوں)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع