30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یصح عندالتعریف وتعریف الواحد کفی والمثنی احوط والی ھذا مال الشیخ الامام المعروف بخواھر زادہ والی القول الاول مال الشیخ الامام شمس الاسلام الاوزجندی والشیخ الامام ظھیرالدین و ضرب من المعقول یدل علی ھذا فانا اجمعنا علی انہ یجوز النظر الی وجھھا لتحمل الشھادۃ[1] اھ قلت فقد اجمعوا علی حصول المعرفۃ برؤیۃ الوجہ حتی جاز التحمل اجماعا وعلی عدمھا بعدم معرفتھا لم یجز التحمل عند قوم اصلا واحتیج لما التعریف عند اٰخرین مقاصد۔ |
رکھی ہے،اور یہ فرمایا ہے کہ تعارف اورشہرت کے وقت اس کے متعلق گواہی دینا صحیح ہے اورصرف ایك آدمی کی پہچان کافی ہے اور دو میں زیادہ احتیاط ہے۔چنانچہ شیخ امام جو خواہر زادہ کے لقب سے مشہورہیں اسی طرف مائل ہیں جبکہ شیخ امام شمس الاسلام اوزجندی اور شیخ امام ظہیرالدین پہلے قول کی طرف مائل ہیں چنانچہ معقول قسم اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ ہم نے اتفاق کیاہے کہ تحمل شہادت کے لئے عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنا جائزہے اھ میں کہتاہوں ائمہ کرام نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ چہرہ دیکھنے سے شناخت اور معرفت حاصل ہوتی ہے یہاں تك کہ(اس صورت میں) تحمل شہادت بالاتفاق جائزہے،اور اگررؤیت نہ ہوتو معرفت نہ ہوگی لہٰذا بعض لوگوں کے نزدیک(اس صورت میں)تحمل شہادت بالکل جائزنہیں۔لیکن کچھ دوسروں کے نزدیك مقاصد میں اس کے لئے شناخت کی ضرورت ہوتی ہے۔(ت) |
اہل تصویر ہی کودیکھئے جوتصویر کسی کی یادگارکے لئے بنوائیں ہرگز بے چہرہ اس پرراضی نہ ہوں گے نہ اپنے مقصود کو مفیدجانیں گے اگرچہ باقی تمام بدن کی تصویر ہو اور بارہانیم قد بلکہ صرف چہرہ پرقناعت کرتے اور اسے اپنے مقصد کے لئے کافی سمجھتے ہیں جیسا کہ مصوّروں میں بکثرت دائروسائر اورسکہ کی تصویروں سے ظاہر،اورخودیہ تصویر جس سے سوال ہے اس پرشاہد کہ اس کا بنانا یادگارہی کے لئے تھا اور نصف سینہ تك قناعت کی توبداہۃً ثابت ہواکہ صرف چہرہ ہی وہ چیز ہے کہ تصویرکو معنی بت میں کرتا ہے اور صرف چہرہ ہی اس معنی کے افادہ میں کافی ہوتا ہے تویہاں جنس مایعبد سے مراد صرف معنی بت میں ہونا ہے اگرچہ نہ خود وہ معبود مشرکین ہو نہ اس کاذوالصورۃ تو وہ اس حالت پرہوکہ مشرکین اپنی عبادت کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع