30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتاسکتے ہیں کہ یہی وہ عورت ہے جس نے ہمارے سامنے اقرارکیااوراگرمنہ کھول کرنہ دکھایاتوگواہان شناخت کے بعد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتے کہ فلاں عورت نے یہ اقرارکیابلکہ اتناکہیں کہ ہمارے سامنے ایك عورت نے یہ اقرار کیا اورفلاں فلاں شہود نے ہم سے بیان کیاکہ یہ فلاں عورت ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
لوکشفت امرأۃ وجھھا وقالت انا فلانۃ بنت فلان لا یحتاجون الی شھود المعرفۃ فان ماتت یحتاجون الی شاھدین یشھدان انھا کانت فلانۃ بیت فلان واذا لم تسفر وجھھا وشھد شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان لم یحل لھما ان یشھدا بذلك یعنی علی اقرار فلانۃ انما یجوز ان یشھدا ان امرأۃ اقرت بکذا وشھد عندنا شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان ھکذا فی الملتقط [1]۔ |
اگرکسی عورت نے اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا اور کہامیں فلاں دختر فلاں ہوں تو اس صورت میں لوگوں کوپوری زندگی شناخت کرانے کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں(اس لئے کہ چہرے سے پوری طرح شناخت اور تعارف حاصل ہوگیا) پھر اگروہ مرجائے تولوگوں کو اس بات کی ضرورت ہوگی کہ دوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ فلاں،دخترفلاں ہے اور اگر اس نے اپناچہرہ کھول کرنہ دکھایا تو پھردوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ وہ فلاں دخترفلاں ہے لیکن ان دو گواہوں کے لئے یہ جائزنہیں کہ وہ یہ گواہی دیں کہ وہ فلاں عورت ہے کہ جس نے اقرار کیا تھا۔ہاں البتہ یہ جائزہے کہ وہ یونہی گواہی دیں کہ ایك عورت نے اقرارکیا ہے اورہمارے پاس دو گواہوں نے گواہی دی کہ وہ عورت فلاں دختر فلاں ہے،فتاوٰی ملتقط میں اس طرح مذکورہے۔(ت) |
اسی میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
|
اختلف المشائخ فی جوازتحمل الشہادۃ علی المرأۃ اذ کانت متنقبۃ،بعض مشائخنا قالوا لایصح التحمل علیھا بدون رؤیۃ وجھھا وبعض مشائخنا توسعوا فی ھذہ وقالوا |
مشائخ کرام نے اس بارے میں اختلاف کیاہے کہ جب عورت نقاب پوش ہوتو اس پرگواہی دینے کے جواز کی کیا صورت ہوگی، چنانچہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ چہرہ دیکھے بغیرعورت کے متعلق گواہی نہیں دی جاسکتی،لیکن ہمارے بعض مشائخ نے اس میں کچھ وسعت وگنجائش |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع