30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیرمعبود کی تصویرکیوں حرام وموجب کراہت ٹھہری۔
دوم: سربریدہ وچہرہ محوکردہ کو استثناء فرمایا کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی۔ظاہر ہے کہ یہ نفی نفی امکان نہیں کہ مشرکوں کی بدعقلی سے کسی چیز کی عبادت محال کیا مستبعد بھی نہیں،جب وہ صرف لنگ اور جلہری کی پوجاکرتے ہیں توان کے ساتھ باقی بدن بھی اگرہو ا اور سرنہ ہوا توکون مانع ہے مگرمراد نفی عادت ہے کہ تن بے سر کی عبادت ان کی عادت نہیں۔تبیین الحقائق و بحرالرائق سے گزرا:
|
لانھا لاتعبد بدون الراس عادۃ[1]۔ |
اس لئے کہ بطورعادت،بغیرسر،تصویر کی عبادت نہیں کی جاتی (ت) |
اب واضح سوال ہے کہ تصویر کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کے بعد جوازکیوں نہ ہوا کہ ایسے لوتھڑے کی عبادت بھی ان کی عادت نہیں بلکہ بھنویں او رآنکھیں مٹادینے پربھی یہی سوال ہوسکتاہے کہ اس حالت پربھی عبادت کی عادت محل منع ہے، اگرکہئے بے سروچہرہ حیات نہیں رہتی اور ان اعضاء کے بغیرممکن ہے،ہم کہیں گے تومدارحیات پرہوا،نہ عادت عبادت پر،ہذا خلف حیات کو اس لئے تھا کہ اصل مناط یعنی عادۃ معبود ہونا بے حیات منتفی ہے نہ اس لئے کہ حیات ہی اصل مناط ہے کہ وہ باقی ہوتو حکم ثابت رہے اگرچہ عادت عبادت معدوم ہو۔
سوم:سربریدہ واطراف بریدہ میں توموت وحیات سے فرق کرلیا چھوٹی تصویر اوراطراف بریدہ میں کیافرق ہے،قابلیت حیات دونوں میں ہے اور عادۃً عبادت دونوں کی نہیں ہوتی بلکہ بڑی تصویر صرف مستوررہنے سے کیوں قابل استثناء ہو گئی، اتنا خارجی تغیر کہ صرف ایك ہیأت بدلی مفید ہوا اور یہ عظیم تغیر نفس جسم میں کہ چاروں ہاتھ پاؤں جڑ سے کاٹ دئیے کام نہ آیا حالانکہ پردہ ڈالنا اعزاز کابھی پہلو رکھ سکتاہے اور دست وپاکاٹ دیناصریح اہانت ہے۔
چہارم:کیافرق ہے کہ زید یامثلًا بکر کی تصویر گھرمیں بے اہانت رکھنا حرام اور مانع ملٰئکۃ رحمۃ علیہم الصلٰوۃ والسلام،حالانکہ مشرکین نہ زید اوربکری کوپوجتے ہیں نہ اُن کی تصویروں کو،اور گائے کاگھرمیں بے اہانت رکھناجائزحالانکہ وہ خود ان کی معبودہ باطلہ ہے اور باندھنا بغرض اہانت نہیں بلکہ حفظ ہے اور بہت گائے بیل بے باندھے بھی رکھے جاتے ہیں،اگرکہئے گائے کارکھنا
[1] تبیین الحقائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۶،بحرالرائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع