30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیجعل الدابۃ بینہ وبین المصلی فتصیر ھی سترۃ فیمر[1] اھ فالذی تحرر بماتقرر کراھۃ استقبال خصوص حیوان اوشجر اخضر یعبدہ المشرکون ان نوعا فنوعا اوشخصا فذلك الشخص عینا دون غیرہ من نوعہ بشرط ان لایکون بینہ وبین المصلی اکثر ممایؤثم المار ھذا ماظھر لی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حوالے سے ہے۔ائمہ فقہ نے فرمایا(سفرمیں سُترہ کے لئے تجویز وتدبیر یہ ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا سوار ہے توزمین پر اترے،پھرگزرنے والا اپنے اورنمازی کے درمیان اپنے جانور کوآڑبنالے،پس یہی اس کے لئے سُترہ کی حیثیت رکھتاہے اھ اور جوکچھ اثبات کردہ حقیقت کے مطابق تحریرہوا کہ مشرکین جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں بربنائے خصوص خواہ وہ حیوان ہو یا کوئی سرسبزوشاداب درخت ہو،نمازمیں اس کی طرف منہ کرنامکروہ ہے،اگرنوع ہوتواس نوع کایہی حکم ہے۔اگرشخص(یعنی فردمعین ہوتو)پھرعین(یعنی اس فرد معین کا یہی)حکم ہے۔لہٰذا اس نوع میں سے کوئی دوسرا مرادنہ ہوگا۔بشرطیکہ اس کے اور نمازی کے درمیان اتنی زیادہ مسافت نہ ہو کہ جس سے گزرنے والا گناہگارہوتاہے۔اور یہ وہ تحقیق ہے جو مجھ پرظاہرہوئے۔اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرورمبنی برصواب ہوگی بشرطیکہ اﷲ تعالٰی چاہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑاعالم ہے(ت) |
ان تمام مسائل سے واضح ہواکہ تشبّہ کے لئے اس شے کاجنس مایعبدہ المشرکون سے ہوناضروری ہے،
اقول:(میں کہتاہوں)اب یہاں متعدد سوال پیداہوتے ہیں:
اوّل:اعیان میں تو اس کے معنی ظاہر ہیں کہ خود وہی نوع یاشخص ہوجس کی عبادت مشرکین کرتے ہیں مگرتصویر میں ہرگزیہ معنی نہیں شمس وقمر کی تصویر نہ گھرمیں رکھنا مکروہ نہ نمازمیں سامنے ہونے سے کراہت،حالانکہ وہ معبودان باطل ہیں،اور ہر انسان وحیوان کی تصویررکھنا بھی حرام،اور اس سے نمازبھی مکروہ،حالانکہ مشرکین ان سب کی عبادت نہیں کرتے،اس کا منشا کیا ہے،وہ جوگزراکہ شمس وقمر کے عین کی عبادت ہوتی ہے،نہ تصویر کی،یہاں بدرجہ اولٰی وارد ہے کہ ان کے نہ عین کی عبادت ہوتی ہے نہ تصویرکی،اگرکہئے وہ ذی روح نہیں یہ ذی روح ہیں،ہم کہیں گے یہی توسوال ہے کہ جب مدارعبادت پرہے تو معبود باطل توغیرذی روح کی تصویرکیوں نہ منع ووجہ کراہت ہوئی،اور ذی روح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع