30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عبد الا تری الی مامر من الفرق بین تنور فیہ نار وبین شمع وسراج اَولا تری ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یستتر فی صلوتہ براحلتہ ولم یمنعہ عن ذٰلك کونھا من جنس الحیوان الذی یعبدہ المشرکون نوع البقر وعبدوا شخص عجل السامری،اخرج الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یعرض راحلتہ فیصلی الیھا[1]،وفی الفتح ان استتر بظھر جالس کان سترۃ وکذا الدابۃ واختلفوا فی القائم[2] اھ وفیہ وفی الھندیۃ عن النھایۃ قالوا حیلۃ الراکب ان ینزل |
جنس کااعتبارنہیں کیاجاتا بلکہ اس میں جس کی عبادت کی جائے جس وجہ پرعبادت کی جائے اس خصوص کو پیش نظر رکھاجاتاہے۔کیاآپ نہیں دیکھتے اس گزشتہ فرق کو جو ایسے تنور کہ جس میں آگ ہو اور شمع اورچراغ کے درمیان کیاگیاہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی نمازمیں اپنی سواری(ناقہ)کوپردہ اورآڑ بناتے اور اس رویّہ سے آپ کو یہ چیز نہ روکتی کہ ناقہ اس جنس حیوان میں سے ہے کہ جس کی ایك قسم گائے کی مشرکین عبادت کرتے رہے اورسامری کے بنائے ہوئے فرد معین بچھڑے کی پرستش کرتے رہے،چانچہ بخاری اورمسلم نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام جب نمازپڑھنے کاارادہ فرماتے تواپنی سواری(ناقہ)کوچوڑائی میں بٹھادیتے پھر اس طرف منہ کرکے نمازپڑھتے۔فتح القدیر میں ہے اگرکسی بیٹھے ہوئے شخص کی پیٹھ کو(نمازپڑھتے وقت)پردہ بنائے توپھر اس کے لئے سُترہ کے قائم مقام ہے،اور کسی دوسرے جانور کابھی یہی حکم ہے،اور کھڑے ہونے والے شخص میں ائمہ کرام نے اختلاف کیاہے اھ اوراس میں اورفتاوٰی عالمگیری میں نہایہ کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع