30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذا کانوامنك قدررمیۃ[1] وفی صلٰوۃ الھندیۃ عن التتارخانیۃ ان کانت القبور وراء المصلی لایکرہ فانہ ان کان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلٰوۃ و یمر انسان لایکرہ فھٰھنا ایضا لایکرہ[2] اھ اما الشجر،فاقول:کونہم عبدوا نوعا اوشخصا من الشجر لایلزم کراھۃ الاستقبال الا الی ذٰلك النوع او الشخص بخصوصہ لاالی کل شجرۃ ولیس ذٰلك مثل التمثال فان الحکم متعلق بنفسہ من دون نظر الٰی کونہ صورۃ ماعبدوہ اولا کما سیاتیك تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالٰی بخلاف الاعیان فلا یعتبر فیھا الجنس بل خصوص ماعبد علی وجہ |
کی مقدار دورہو(یعنی اگر اتنی مقدار دور سے گزریں تو کوئی حرج نہیں)اور امام طحاوی کی روایت میں ہے(اے نمازی!) تجھے یہی کافی ہے کہ گزرنے والا تجھ سے ایك تیرپھینکنے کی مقدارہو۔فتاوٰی عالمگیری بحث صلٰوۃ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے منقول ہے اگرقبریں نمازی کے پس پشت ہوں تو کوئی کراہت نہیں بشرطیکہ نمازی اور قبر کے درمیان اتنی مقدار مسافت ہوکہ جتنی نمازمیں نمازی کے آگے ہونی چاہئے کہ اگرکوئی آدمی اس کے آگے سے گزرے توکراہت نہ ہوتو یہاں بھی اس قدر مسافت ہو تو کراہت نہ ہو گی اھ۔رہا درختوں کامعاملہ،فاقول:(تو اس کے متعلق میں کہتاہوں کہ) مشرکین کسی نوع یاکسی فرد معین درخت کی عبادت کرنے سے اس کی طرف منہ کرنے سے کراہت لازم آئے گی مگریہ اس وقت ہوگا جبکہ اس نوع یاخصوصی فرد کی طرف منہ کرے اور یہ معاملہ ہردرخت کے ساتھ نہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کامعاملہ تصویرجیسانہیں اس لئے کہ حکم اس کی ذات سے وابستہ ہے اس پرنظرکئے بغیر کہ یہ اس کی تصویر ہے کہ جس کی پہلے مشرکین نے عبادت کی یانہیں جیسا کہ ان شاء اﷲ تعالٰی عنقریب اس کی تحقیق تیرے پاس آجائے گی بخلاف اعیان (ذوات)کہ ان میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع