30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
اپنے پاس روکے رکھتاہے چنانچہ ہمارے ایك جلیل القدرامام فقیہ قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں ارشادفرمایا کہ اگرکوئی شخص گانے بجانے اورلہو میں سے کسی چیز کو اپنے پاس روکے رکھے مکروہ ہے اور وہ اسی طرح کرنے سے گنہگار ہوگا اگرچہ انہیں اپنے استعمال میں نہ لائے،کیونکہ اس قسم کے آلات واسباب کو روکے رکھنا عادتًا کھیل تماشے کے لئے ہی ہوتاہے۔(ت) |
(۷)چاند،سورج،ستاروں اوردرختوں کی تصویریں نمازمیں سامنے ہوں توحرج نہیں کہ مشرکین نے اگرچہ ان اشیاء کوپوجا مگران تصویروں کی عبادت نہیں کرتے،سومنات اگرچہ معبدقمرتھا،سوم بمعنی قمرہے اورناتھ بمعنی مالک،مگر اس میں بت تھا جسے صورت روحانیت قمرقراردیاتھا نہ شکل ہلالی یاقمری یابدری کی تصویر،ردالمحتارمیں درایہ شرح ہدایہ سے ہے:
|
فان قیل عبدالشمس والقمر والکواکب والشجرۃ الخضراء قلنا عبد عینہ لاتمثالہ[1] اھ اقول:وبہ ظھر بطلان مابحث القاری فی المرقاۃ اذ قال ماعبد من دون اﷲ ولو کان من الجمادات کالشمس والقمر ینبغی ان یحرم تصویرہ [2] اھ وھو کماتری بحث غریب ساقط لادلیل علیہ ولااثر لہ فی کلام الائمہ بل مخالف لاطلاقات جمیع کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوی واﷲ الموفق ھذا،ثم قال العلامۃ الکاکی فعلی ھذا ینبغی ان یکرہ |
اگریہ کہاجائے سورج،چاند،ستارے اور سرسبزدرختوں کی عبادت کی جاتی ہے(توپھر ان کی تصویروں کاکیاحکم ہے)ہم اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اشیاء مذکورہ کی عین ذات کی عبادت کی جاتی ہے نہ کہ ان کی تصویروں کی اھ اقول:(میں کہتاہوں)اس سے اس قول کا باطل ہوناواضح ہو گیا کہ ملاعلی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں جس سے بحث کی،چنانچہ موصوف نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کے سوا جس کی عبادت کی جائے اگرچہ وہ بے جان چیزوں میں سے ہو جیسے سورج اورچاند وغیرہ،تومناسب یہ ہے کہ اس کی تصویرحرام قراردی جائے اھ یہ جوکچھ فرمایاجیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ایك بحث غریب ہے جودرجہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اس امر پرکوئی دلیل نہیں،اورنیزائمہ کرام کے کلام میں اس کی کوئی نشانی موجودنہیں بلکہ وہ ایك مخالف کلام ہے،ان تمام اطلاقات کے لئے جو مذہبی کتابوں میں متون، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع