30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:(میں کہتاہوں)یہ وہی فرق نفیس ہے کہ صدرکلام میں فقیرنے گزارش کیا،
|
ولفظ البحر اما المصحف فلان فی تقدیمہ تعظیمہ وتعظیمہ عبادۃ والاستخفاف بہ کفرفانضمت ھذہ العبادۃ الی عبادۃ اخری فلاکراھۃ[1] اھ فاحفظہ فانہ ینفعک۔ |
بحرالرائق کے الفاظ یہ ہیں رہا مصحف تو اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے اور اس کی تعظیم بلاشبہ عبادت ہے اور اس کا استخفاف کفرہے۔پھر یہ عبادت ایك دوسری سے پیوستہ ہوگئی لہٰذا بالکل کراہت نہ رہی اھ پھراس کو یادرکھئے بلاشبہہ یہ آپ کو فائدہ دے گا۔(ت) |
(۶)تصویر صغیرپرقیاس فرماکر مستورسے بھی نفی کراہت کی،کہ ظاہر نہ ہونے میں اس کے مثل ہے جیسے جیب یابٹوے میں روپیہ یابعض ترکی ٹوپیوں میں کہ نصارٰی کی بنائی ہوتی ہیں اندر کی جانب تصویرہوتی ہے ان صورتوں میں نمازمکروہ نہیں مگر نا جائزتصویریں حفاظت سے رکھ چھوڑنا خود ہی منع ہے اگرچہ صندوق میں بند رکھے اور نہ کھولے اگرچہ وہاں نمازمکروہ نہ ہوگی۔ محیط وخلاصہ وحلیہ وبحرمیں ہے:
|
رجل فی یدہ تصاویر وھویؤم الناس لاتکرہ امامتہ لانھا مستور بالثیاب فصار کصورۃ فی نقش خاتم و ھو غیر مستبین[2] اھ ولفظ الخلاصۃ اذا کانت فی یدہ (وفی نسخۃ علی یدیہ)وھو یصلی لاباس بہ لانہ مستور بثیابہ وکذا لوکانت علی خاتمہ[3] اھ عزافی |
کسی شخص کے بازو میں تصویریں ہیں اور لوگوں کی امامت کراتاہے تو اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی اس لئے کہ یہ تصویریں کپڑوں سے چھپی ہوئی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے انگوٹھی کے نقش میں تصویر ہوجبکہ وہ واضح نہ ہو اھ خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں:اگرکسی کے بازو میں،اورایك نسخہ میں ہے اس کے دونوں بازوؤں میں تصویر ہو اور وہ اس حالت میں نمازپڑھے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ کپڑوں سے ڈھانپی ہوئی ہیں۔اور اسی طرح اگر انگوٹھی پرتصویرہو اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع