30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح زیرمسئلہ شمع ہے:
|
لانھم لایعبدونہ بل الضرام جمرا اونارا [1]۔ |
اس لئے کہ مشرکین اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ بھڑکتے انگارے یاآگ کی۔(ت) |
تبیین الحقائق وبحرالرائق میں ہے:
|
قال رحمہ اﷲ تعالٰی او شمع اوسراج لانھما لایعبدان والکراھۃ باعتبارھا وانما یعبدھا المجوس اذاکانت فی الکانون وفیھا الجمر اوفی التنور فلایکرہ التوجہ الیھا علی غیرذٰلك الوجہ[2] اھ اقول:البحر تبع التبیین فی قولہ والکراھۃ باعتبارھا فرجع الی الصواب۔ |
دونوں نے فرمایا(اﷲ تعالٰی ان پررحم فرمائے)شمع یاچراغ کی طرف(بحالت نمازمنہ کرنا مکروہ نہیں اس لئے کہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتی،اور کراہت عبادت کی وجہ سے ہواکرتی ہے، اور آتش پرست آگ کی عبادت کرتے ہیں جبکہ چولھے اورتنور میں آگ کے انگارے ہوں۔لہٰذا اس کی طرف رخ کرنا بغیر اس وجہ کے ہو تو مکروہ نہیں اھ اقول:(میں کہتا ہوں) مصنف بحررائق نے تبیین کے اس قول"کراہت بلحاظ عبادت ہوتی ہے"میں اس کا اتباع کیا لہٰذا وہ راہ صواب کی طرف لوٹ گیا۔(ت) |
کافی میں ہے:
|
ان قطع الراس فلاباس بہ لانہ لایعبد بلا راس ولہذا لوصلی الی تنور اوکانون فیہ نارکرہ لانہ یشبہ عبادتھا والی قندیل اوشمع اوسراج لا،لعدم التشبہ[3]۔ |
اگرتصویر کاسرکاٹ دیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ بغیر سرتصویر کی عبادت نہیں کی جاتی۔لہٰذا اگر ایسے چولہے یاتنور کی طرف نماز پڑھے کہ جس میں آگ ہو تو مکروہ ہے کیونکہ اس کی عبادت کے مشابہ ہے،اور اگرقندیل یاشمع یا چراغ کی طرف(منہ کرکے نمازپڑھے)توکراہۃ نہیں، اس لئے کہ اس میں کوئی تشبہ عبادت نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع